سرینگر: مرکزی وزیر داخلہ ‘امت شاہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ آئین کے آرٹیکل۳۷۰کی دفعات کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ایک بھی گولی چلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور اس کو یقینی بنانے میں سی آر پی ایف نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔
گوہاٹی میں سی آر پی ایف کے۸۷ویں یومِ تاسیس پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے‘ جو پہلی بار شمال مشرق میں منعقد ہوئی، شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں فورس نے اہم کردار ادا کیا جہاں سنگباری کے واقعات صفر تک آ چکے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سنگباری کے واقعات صفر تک آ چکے ہیں، صنعتیں آ رہی ہیں اور ترقی ہو رہی ہے، جس کا سہرا سی آر پی ایف، بی ایس ایف اور خاص طور پر جموں و کشمیر پولیس کی بڑی خدمات کو جاتا ہے۔
شاہ نے یہ بھی کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں امن قائم کرنے میں بھی سی آر پی ایف نے بڑا کردار ادا کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ چاہے امرناتھ یاترا ہو یا مہا کمبھ، ملک کے ثقافتی پروگراموں کی سلامتی اور کامیابی کو یقینی بنانے میں بھی اس فورس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شمال مشرق میں۷۰۰سی آر پی ایف اہلکار، نکسل متاثرہ علاقوں میں۷۸۰اور جموں و کشمیر میں۵۴۰اہلکار شہید ہوئے۔
شاہ نے کہا’’ان قربانیوں کے بغیر آج ان تینوں ہاٹ اسپاٹس‘جموںکشمیر‘شمال مشرق اور نکسلواد سے متاثرہ علاقے‘ کو ترقی کی راہ پر لانا ممکن نہ ہوتا۔ اگر میں آسام کی بات کروں تو۷۹جوانوں نے آسام میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی بہترین خدمات انجام دیں‘‘۔
اس فورس کی پہلی بٹالین۱۹۳۹میں برطانوی دور حکومت میں کراؤن ریپریزنٹیٹو پولیس (سی آر پی) کے طور پر قائم کی گئی تھی۔آزادی کے بعد۱۹۴۹میں اسے بھارت کے پہلے وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے نام سے دوبارہ منسوب کیا۔ (ایجنسیاں)
وزیر داخلہ نے کہا کہ فرض شناسی اور قربانیوں کے اسی جذبے کی بدولت سی آر پی ایف کے جوانوں نے متعدد مواقع پر ملک کا تحفظ کیا ہے۔
شاہ نے کہا’’گیارہ بارہ سال پہلے ملک کے تین بڑے ہاٹ اسپاٹس جموں و کشمیر، بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اور شمال مشرق داخلی سلامتی کے لیے ناسور بن چکے تھے۔ آج تینوں مقامات پر امن قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے‘‘۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ان تینوں ہاٹ اسپاٹس پر کبھی بم دھماکے، گولیاں، بند، ناکہ بندی اور تباہی عام بات تھی، مگر آج تینوں خطے ترقی کے انجن بن چکے ہیں جو پورے ملک کی پیش رفت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فورس نے پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنایا اور۲۰۰۵میں شری رام جنم بھومی پر حملے کو بھی ناکام کیا۔انہوں نے دوبارہ بتایا کہ شمال مشرق میں۷۰۰، نکسل علاقوں میں۷۸۰؍اور جموں و کشمیر میں۵۴۰سی آر پی ایف اہلکار شہید ہوئے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی مقررہ ڈیڈ لائن۳۱مارچ تک ملک سے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نکسل ازم ملک کی۱۲ ریاستوں اور بے شمار اضلاع تک پھیل چکا تھا، اور جب مرکز نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا تو سی آر پی ایف اور کوبرا فورس کے اہلکاروں نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اتنا بڑا، پیچیدہ اور مشکل کام صرف تین سال میں مکمل کیا گیا۔انہوں نے زور دے کر کہا، ’’سی آر پی ایف اہلکاروں کی بدولت ہم پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ۳۱مارچ۲۰۲۶تک ملک مکمل طور پر نکسل ازم سے آزاد ہو جائے گا‘‘۔
چھتیس گڑھ،تلنگانہ سرحد پر کرریگوٹا پہاڑیوں میں آپریشن بلیک فاریسٹ کی تعریف کرتے ہوئے، جس میں اپریل،مئی۲۰۲۵کے دوران۳۱نکسل مارے گئے، شاہ نے کہا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے۴۵ڈگری سیلسیس کی جھلسا دینے والی گرمی میں، انتہائی دشوار جغرافیائی حالات میں۲۱دن تک آپریشن جاری رکھا اور نکسلوں کے مضبوط گڑھ کو ختم کر دیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے جوان ان۲۱ دنوں کے دوران ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے اور بالآخر نکسلوں کے اسٹریٹجک اڈے کو تباہ کر دیا۔شاہ نے کہا کہ سی آر پی ایف اور کوبرا فورس نے ملک کو ’سرخ دہشت‘سے آزاد کرانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہفتہ کو۱۴سی آر پی ایف جوانوں کو پولیس میڈل برائے شجاعت سے نوازا گیا، پانچ کو صدر پولیس میڈل برائے امتیازی خدمات دیا گیا اور فورس کی پانچ بٹالینوں کو شاندار کارکردگی پر اعزازات سے نوازا گیا۔










