ہم بھی تو جناب یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہر ایک چیز میں سیاست نہیں کی جا نی چاہئے …….بالکل بھی نہیں کی جانی چاہئے ۔ لیکن مسئلہ ‘ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سنے گا کون ؟اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ صاحب نے اپنے کانگریسی ساتھیوں سے کہا کہ وہ ہر ایک چیز میں سیاست نہ کریں …….اور اس لئے نہ کریں کہ ہر ایک چیز میں سیاست کی گنجائش نہیں ہو تی ہے ۔وزیر اعلیٰ اصل میں کانگریس کی اُس’تشویش‘ کی طرف اشارہ کررہے تھے جو اس جماعت نے ڈی سی کشتواڑ کی ماہ صیام میں چندے پر عائد پابندی کے حکمنامے پر ظاہر کی تھی ۔عمرعبداللہ کاکہنا تھا کہ ڈی سی نے یہ حکم نامہ اس ضلع کے علماءکی درخواست پر جاری کردیا …….اس لئے اس پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ لیکن کیا کانگریس واقعی اس مسئلہ پر سیاست کررہی تھی ؟ ہمیں نہیںلگتا ہے اور اس لئے نہیں لگتا ہے کہ بادی النظر میں ڈی سی کشتواڑ کا حکم نامہ واقعی میں باعث تشویش لگتاہے …….اور کانگریس نے بھی اسی لئے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا …….اور اس لئے کیا تھا کیونکہ کانگریس کو کہاں معلوم تھا ……. اس کے پاس کون سال علم غیب تھا جو اسے معلوم پڑتا کہ ڈی سی صاحب نے ایسا ضلع کے علماء کی درخواست پر ہی کیا تھا ۔کانگریس کیا اس ضلع سے باہر کسی کو اس بات کی علمیت نہیں تھی ‘ جانکاری نہیں تھی …….اب جب وزیر اعلیٰ صاحب نے ’وضاحت‘ پیش کی ہے تو ……. تو بات سمجھ میں آرہی ہے ۔لیکن صاحب یہ کیا بات ہو ئی کہ ……. کہ اب بات اور ہر بات کو سیاست کہا جائے ؟یقیناً کانگریس ایک سیاسی جماعت ہے اور بطور سیاسی جماعت اگر وہ سیاست نہیں کرے گی تو اور کیا کریگی کہ……. کہ سیاست تو نیشنل کانفرنس بھی کرتی ہے ……. اور کیوں نہیں کرے گی کہ وہ کوئی تبلیغی جماعت تو ہے نہیں ……. ایک سیاسی جماعت ہے اور وہ سیاست ہی کرے گی ۔ لیکن صاحب ایک بات تو ہم سب کو جاننی اور ماننی پڑے گی کہ …….کہ سیاسی جماعتوں کی ہر ایک بات سیاست نہیں ہو تی ہے ‘ اس میں سیاست نہیں ہو سکتی ہے کہ ……. کہ کئی ایسے اشوز ہوتے ہیں جن پر سیاسی جماعیں باتیں کرتی ہیں اور ان کی یہ باتیں سیاست نہیں ہو تی ہیں ……. بالکل اسی طرح جس طرح کشتواڑ کے ڈی سی کے حکم نامے پر کانگریس کی تشویش سیاست نہیں تھی ……. بالکل بھی نہیں تھی ۔ ہے نا؟



