نئی دہلی: مرکزی وزارتِ داخلہ نے ہدایت دی ہے کہ جب قومی نغمہ وندے ماترم اور قومی ترانہ جن گن من ایک ساتھ پیش کیے جائیں تو سب سے پہلے قومی نغمہ کی تمام چھ بند گائی جائیں۔ قومی نغمہ بنکم چندر چٹوپادھیائے نے تحریر کیا تھا۔
۲۸ جنوری کے ایک حکم نامے میں وزارتِ داخلہ نے قومی نغمہ گانے کے لیے پہلی بار باقاعدہ ضابطے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی چھ بند، جن کا دورانیہ۳ منٹ۱۰سیکنڈ ہے، سرکاری تقریبات مثلاً صدر کی آمد، ترنگا لہرانے اور گورنروں کی تقاریر کے مواقع پر گائی جائیں۔
حکم میں کہا گیا’’جب قومی نغمہ اور قومی ترانہ گایا یا بجایا جائے تو قومی نغمہ پہلے گایا یا بجایا جائے گا‘‘۔اس میں کہا گیا ہے کہ جس اجتماع میں قومی نغمہ گایا جائے وہاں تمام حاضرین باادب کھڑے ہوں گے۔
’’جب بھی قومی نغمہ کا سرکاری ورژن گایا یا بجایا جائے تو سامعین توجہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ تاہم اگر کسی نیوز ریل یا دستاویزی فلم کے دوران قومی نغمہ فلم کے حصے کے طور پر چلایا جائے تو سامعین سے کھڑا ہونا متوقع نہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے فلم کی نمائش میں خلل پڑے گا اور وقار میں اضافے کے بجائے بدنظمی اور الجھن پیدا ہوگی‘‘۔
حکم میں کہا گیا کہ اسکولوں میں تعلیمی دن کا آغاز قومی نغمہ بجانے سے کیا جائے۔مرکز وندے ماترم کے۱۵۰سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔
حکم کے مطابق قومی نغمہ کا سرکاری ورژن اجتماعی گائیکی کے ساتھ ان مواقع پر پیش کیا جائے ۔’قومی پرچم لہرانے کے وقت، ثقافتی یا رسمی تقریبات (پریڈ کے علاوہ)، اور کسی بھی سرکاری یا عوامی تقریب میں صدر کی آمد پر وغیرہ‘۔
اس میں مزید کہا گیا ہے ’’مناسب عوامی ساؤنڈ سسٹم ہونا چاہیے تاکہ مختلف حصوں میں موجود لوگ کوائر کے ساتھ یک آواز ہو کر گا سکیں؛ جہاں ضرورت ہو سرکاری ورژن کے بول شرکا میں تقسیم کیے جائیں‘‘۔
حکم میں کہا گیا کہ تمام مواقع پر جب قومی نغمہ گایا جائے تو سرکاری ورژن ہی اجتماعی گائیکی کے ساتھ پڑھا جائے۔’’قومی نغمہ ان مواقع پر بھی گایا جا سکتا ہے جو اگرچہ مکمل رسمی نہ ہوں مگر وزراء وغیرہ کی موجودگی کے باعث اہمیت رکھتے ہوں۔ ایسے مواقع پر (آلات موسیقی کے ساتھ یا بغیر) اجتماعی گائیکی کے ساتھ قومی نغمہ گانا مطلوب ہے‘‘۔
حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان تمام مواقع کی مکمل فہرست دینا ممکن نہیں جن پر قومی نغمہ کے سرکاری ورژن کی گائیکی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔’’تاہم قومی نغمہ اجتماعی گائیکی کے ساتھ گانے میں کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ اسے مادرِ وطن کو سلام کے طور پر مکمل احترام اور مناسب آداب کے ساتھ پیش کیا جائے‘‘۔
حکم میں کہا گیا کہ تمام اسکولوں میں دن کا آغاز اجتماعی طور پر قومی نغمہ گانے سے کیا جا سکتا ہے۔’’اسکول انتظامیہ اپنے پروگراموں میں قومی نغمہ، قومی ترانہ اور قومی پرچم کے احترام کو فروغ دینے کے لیے مناسب انتظامات کرے۔‘‘










