تہران /10فروری //
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی وفد کے ساتھ عمان میں ہونے والی مختصر اور براہ راست بات چیت کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ ’ہم نے محسوس کیا کہ سفارتی عمل جاری رہے گا‘۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات عمان کی ثالثی میں مسقط میں ہوئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے ہمراہ وفد نے عمانی سفارت کاروں کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے بالواسطہ مذاکرات کیے۔ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ ان مذاکرات کے اختتام پر امریکی حکام کے ساتھ ان کی ’مختصر ملاقات‘ ہوئی تھی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ امریکہ کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ’دباؤ اور تباہ کن اثرات سے آزادانہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو یقیناً خطے اور خود امریکہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔‘
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کے عمان کے دورے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ دورہ ان کے علاقائی دوروں جیسا کہ روس اور پاکستان کے بیرونی ممالک کا حصہ ہے اور ان کا اگلا قطر کا دورہ بھی اسی فریم ورک کے مطابق ہے۔
عمان میں مذاکرات پر ترک حکومت کی ناراضگی کی خبروں پر ردعمل
اس سوال کے جواب میں کہ کیا ترک حکومت عمان میں ہونے والے مذاکرات سے خفا ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مسقط میں مذاکرات کا انعقاد دیگر ممالک کے پریشان ہونے کی وجہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’شروع سے، یہ ملاقات عمان کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘
اسماعیل بقائی کے مطابق خطے کے تمام ممالک جنھوں نے مذاکرات کے انعقاد میں مدد کی تھی وہ بھی ان کی میزبانی کے لیے تیار تھے۔ لیکن چونکہ ’ہم مذاکرات کرنے والے فریق ہیں اور ہمیں عمان میں اچھا تجربہ حاصل تھا اور ہمارا مقصد جوہری مسئلے پر توجہ مرکوز کرنا تھا اور بالآخر ان اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہم نے مسقط میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔‘









