جموں: اودھم پور پولیس نے ایک منشیات فروش کی لاکھوں روپیے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کر دی۔
ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ اودھم پور پولیس نے ایک منشیات فروش کی تقریباً۳۰لاکھ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد کو این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ۶۸ ؍ ایف کے تحت ضبط کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت درج ایک ایف آئی آر میں انجام دی گئی۔
ملزم کی شناخت بھوپیش پگیترہ ولد اوم پرکاش ساکن دنڈیال اودھم پور کے طور پر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم کے پاس وارڈ نمبر۲۱‘ ڈنڈیال ضلع اودھم پور میں خسرہ نمبر۶۹پر واقع 5مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک رہائشی مکان اور دیگر گھریلو اشیا موجود ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس بات کے معقول شواہد پائے گئے کہ مذکورہ جائیداد منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی بنیاد پر این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت مزید کارروائی کے لئے مذکورہ مکان‘۵مرلہ اراضی اور گھریلو اشیا کو ضبط کر دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے ساتھ اودھم پور پولیس کی جانب سے رواں برس کے دوران اب تک این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ضبط شدہ جائیداد کی مجموعی مالیت 1.80 کروڑ روپیوں تک پہنچ گئی۔
اس دوران معاشرے سے منشیات کی بیخ کنی کو یقینی بنانے کے لئے جاری ہمہ گیر مہم میں اودھم پور پولیس نے دو بین ضلعی منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کی تحویل سے ہیروئن جیسا ممنوعہ مواد بر آمد کیا ہے۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس پوسٹ ٹکری کی ایک ٹیم نے معمول کی ٹریفک چیکنگ کے دوران جموں سے سری نگر کی طرف آنے والی ایک انووا گاڑی کو روکا۔
ترجمان نے کہا کہ گاڑی میں دو افراد سوار تھے اور پوچھ تاچھ پر ڈرائیور نے اپنی شناخت محیب مقبول میر ولد محمد مقبول میر ساکن رنگ پورہ الٰہی باغ سری نگر جبکہ اس کے دوسرے ساتھی نے اپنی شناخت اعجاز احمد ڈار ولد عبدا لرشید ڈار ساکن گلاب باغ سری نگر کے طور پر ظاہر کی۔
ان کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران ان کی تحویل سےمجموعی طور پر 15.19 گرام ہیروئن بر آمد کیا گیا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ دونوں افراد بر آمد شدہ منشیات کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے جس کے بعد دونوں کو بر سر موقع ہی گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں پولیس اسٹیشن ریہام بل میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا اور مزید تحقیقات شروع کی گئی۔










