واشنگٹن /05فروری /
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو عمان میں منعقد ہوں گے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، خاص طور پر گزشتہ ماہ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد۔
عراقچی کے مطابق مذاکرات کے فارمیٹ اور ایجنڈے میں تبدیلیوں کے باعث کئی گھنٹوں تک یہ خدشہ موجود رہا کہ بات چیت ملتوی ہو سکتی ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ فریقین جمعہ کو عمان میں ملاقات کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میں اپنے عمانی بھائیوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے تمام ضروری انتظامات کیے۔‘
منگل کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ انھوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’منصفانہ اور مساوی مذاکرات‘ کو آگے بڑھائیں۔
ساتھ ہی واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ امریکہ نے عمان میں ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ مذاکرات پہلے کے برعکس اب ترکی کے بجائے عمان میں ہوں گے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات سے قبل ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو متنبہ کیا ہے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ انھیں مذاکرات اور موجودہ حالات کو تناظر میں بہت فکر مند ہونا چاہیے۔‘
ذرائع کے مطابق ترکی بھی پس پردہ کوششوں میں مصروف رہا تاکہ مذاکرات استنبول میں منعقد کیے جائیں، جہاں علاقائی ممالک کی شمولیت کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور دیگر معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے اور پچھلے برس امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر میزائل حملے کیے تھے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر متعدد مرتبہ ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آئے اور یہ بھی کہا کہ امریکہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کا بھی عندیہ دیا تھا۔








