’ہم یورپی یونین کے علاوہ کئی ممالک کے ساتھ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تجارتی معاہدے کر رہے ہیں‘
سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور بھارت گلوبل ساؤتھ کی مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر ایسے وقت شروع کی جب لوک سبھا میں جاری تعطل کے باعث اپوزیشن جماعتیں نعرے بازی کر رہی تھیں کہ قائد حزب اختلاف کو بولنے کی اجازت دی جائے۔
مودی نے راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیٹھے بیٹھے بھی نعرے لگا سکتے ہیں، جس کے بعد اپوزیشن ارکان نے واک آؤٹ کیا۔
مودی نے کہا کہ کووڈ۱۹وبا کے بعد دنیا ایک نئے عالمی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا’’یہ واضح ہے کہ دنیا ایک نئے ورلڈ آرڈر کی طرف جا رہی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک عالمی نظام قائم ہوا تھا، اب دنیا نئے عالمی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا گلوبل ساؤتھ کی بات کر رہی ہے اور بھارت اس کی بلند آواز ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک کے ساتھ حتمی مراحل میں موجود تجارتی معاہدوں کا ذکر بھی کیا۔
مودی نے کہا’’ہم کئی ممالک کے ساتھ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تجارتی معاہدے کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہم نے نو بڑے تجارتی معاہدے کیے اور سب سے بڑا معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ تھا‘‘۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تھک کر چلے گئے، لیکن ایک دن انہیں جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے بھارت کو اس مقام تک کیسے پہنچایا جہاں کوئی ملک ہمارے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے سابق کانگریس حکومتوں پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا۔
مودی نے مزید کہا کہ پوری دنیا بھارت،امریکہ تجارتی معاہدے کو سراہ رہی ہے اور یہ خاص طور پر بھارتی نوجوانوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک بھی اپنے ہاں سے غیر قانونی شہریوں کو نکال رہے ہیں، لیکن ترنمول کے لوگ دراندازوں کی وکالت کے لیے عدالت جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درانداز ملک کے نوجوانوں کے مواقع چھین رہے ہیں، قبائلیوں کی زمینیں ہڑپ رہے ہیں اور ہماری بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔
مودی نے اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس پر یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے حوالے سے گمراہی پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دہائیوں تک اقتدار میں رہی ہے، لیکن اس نے ‘ڈیلز (معاہدوں) کے نام پر صرف اپنی جیبیں بھرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ڈیل کا دوسرا نام’بوفورس‘ بن گیا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ۲۰۱۴سے پہلے بینکنگ سیکٹر میں کانگریس لیڈروں کے فون جانے پر کروڑوں روپے کے قرضے دیے جاتے تھے اور قرض لینے والے اسے ہضم کر جاتے تھے۔ان کاکہنا تھا’’انڈیا الائنس (یو پی اے) کے دور میں بینکنگ نظام تباہی کے دہانے پر تھا اور ڈوبے ہوئے قرضوں (این پی اے) کے پہاڑ کھڑے ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا ’’چیلنج بڑا تھا، لیکن ہم نے سمجھداری سے اصلاحات کیں، شفاف نظام بنایا اور بینکوں کا انضمام کیا۔ اس طرح بینکوں کو بیماری سے نجات ملی‘‘۔
مودی نے اپنی حکومت کی ’مدرا لون اسکیم‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کے تحت۳۰ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرضے دیے جا چکے ہیں۔ نوجوانوں اور خواتین کو بغیر کسی ضمانت کے مدرا لون کی سہولت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنا کاروبار کر سکیں۔ حکومت نے بینکنگ نظام میں بہتری لا کر این پی اے کو ایک فیصد سے بھی نیچے گرا دیا ہے اور بینکوں کا منافع ریکارڈ سطح پر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ سرکاری اداروں (پی ایس یو) کی ذہنیت بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ماضی میں اپوزیشن ان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتی تھی اور لائف انشورنس کارپوریشن، ایس بی آئی اور انڈیا ایروناٹک لمٹیٹید(ایچ اے ایل) کے گیٹ کے سامنے مظاہرے کرائے جاتے تھے۔ لیکن آج یہ عوامی شعبے کے ادارے ریکارڈ منافع کما رہے ہیں اور ’میک ان انڈیا‘ کو تقویت دے رہے ہیں۔ یہ ادارے ریکارڈ تعداد میں روزگار فراہم کر کے دنیا کو اپنی طاقت دکھا رہے ہیں۔
مودی نے کہا’’کانگریس نے کسانوں کے ساتھ غداری کی۔ ملک میں۱۰کروڑ کسان ایسے ہیں جن کے پاس دو ہیکٹر سے کم زمین ہے، لیکن کانگریس نے ان پر توجہ نہیں دی۔ ہم نے ’کسان سمان ندھی‘ کے تحت ایسے کسانوں کو چار لاکھ کروڑ روپے دیے ہیں‘‘۔
انہوں نے کسانوں کے لیے مختلف پہلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں میں نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں اور وہ ہندوستان کی توقعات کے مطابق نتائج دیں گے۔ معاشی عدم مساوات کے معاملے پر کانگریس پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود کو’راجا‘ کہلوانے والے کانگریس کے ایک رکن (دگ وجے سنگھ) آج معاشی عدم مساوات کی باتیں کر رہے ہیں۔










