سرینگر:جموں و کشمیر کی معیشت مالی سال ۲۰۲۵۔۲۰۲۶میں حقیقی معنوں میں 5.82 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔
جمعرات کو اسمبلی میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے رپورٹ۲۰۲۵۔۲۰۲۶کے مطابق یہ شرح کووڈ کے بعد مستحکم بحالی اور بہتر مالی نظم و نسق کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نامیاتی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار(جی ایس ڈی پی میں 8.89 فیصد اضافہ متوقع ہے جس سے معیشت کا مجموعی حجم تقریباً 2.86 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا کہ۲۰۱۹۔۲۰۲۰سے۲۰۲۴۔۲۰۲۵ کے درمیان خطے کی معیشت نے حقیقی معنوں میں 4.47 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو(سی اے جی آر ) ریکارڈ کی، جو وبا کے بعد مسلسل بحالی کو ظاہر کرتی ہے۔
فی کس آمدنی۲۰۲۵۔۲۰۲۶میں بڑھ کر ایک لاکھ۶۸ہزار۲۴۳روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں اس میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کئی شمالی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
مجموعی ریاستی ویلیو ایڈڈ(جی ایس وی اے) میں سب سے بڑا حصہ خدمات کے شعبے کا رہا جو 61.02 فیصد ہے، اس کے بعد بنیادی شعبہ 20.45 فیصد اور ثانوی شعبہ 18.52 فیصد رہا۔
رپورٹ کے مطابق زراعت اور متعلقہ سرگرمیاں اب بھی روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں، تاہم صنعت، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے فروغ نے معیشت کو زیادہ متنوع بنانے میں مدد دی ہے۔
مالی محاذ پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں آمدنی جمع کرنے اور اخراجات کے نظم میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ نومبر۲۰۲۵تک ۱۳ہزار۵۲۱کروڑ روپے کی ریونیو وصولی ہوئی جو زیادہ تر جی ایس ٹی، ایکسائز اور نان ٹیکس آمدنی خصوصاً بجلی کے شعبے سے حاصل ہوئی۔
سرمایہ جاتی اخراجات بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، اثاثوں کی تخلیق اور جاری منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز رہے۔ رپورٹ کے مطابق BEAMS اور GeM جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال نے حکمرانی اور مالی شفافیت کو مضبوط کیا ہے۔
شعبہ وار کارکردگی میں زراعت و باغبانی میں غذائی اجناس اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ، ہائی ڈینسٹی باغات کی توسیع اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز میں کسانوں کی بڑھتی شرکت نمایاں رہی۔
ای-نام (e-NAM) کے ذریعے منڈی تک رسائی بہتر ہوئی جبکہ پالیسی اصلاحات، نئی سرمایہ کاری تجاویز اور نئی صنعتی اکائیوں کے آغاز سے صنعتی ترقی کو تقویت ملی۔ جموں و کشمیر نے ایز آف ڈوئنگ بزنس میں قومی سطح پر ’ٹاپ اچیور‘ درجہ بھی حاصل کیا۔










