سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز ملک کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والی کشمیری طلبہ اور تاجروں کی مبینہ ہراسانی کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں، اور کہا کہ وادی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔
کشمیریوں کی مبینہ ہراسانی کا معاملہ بجٹ اجلاس کے دوران منگل کو وقفہ سوالات شروع ہونے سے قبل جموں و کشمیر اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا، تاہم اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے پی ڈی پی کے رکنِ اسمبلی وحید الرحمٰن پارہ کی جانب سے اس موضوع پر بحث کے لیے پیش کی گئی التوا کی تحریک کو مسترد کر دیا۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی کے پہلے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ میں نے اس مسئلے کو شمالی زون کے وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس میں اٹھایا تھا۔ اس موقع پر میں نے تمام وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ سے درخواست کی تھی کہ کشمیریوں ‘چاہے وہ طلبہ ہوں یا تاجر کی جاری ہراسانی کو روکا جائے۔ میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بروقت کارروائی کی، مقدمات درج ہوئے اور گرفتاریاں عمل میں آئیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ہمسایہ ریاست ہماچل پردیش میں، جہاں کانگریس کی حکومت ہے، وہاں سے بھی کشمیریوں کی ہراسانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہماچل ہماری پڑوسی ریاست ہے، اور اس کے باوجود کہ وہاں کانگریس کی حکومت ہے، لوگوں (کشمیریوں) کو روکا جا رہا ہے، ہراساں کیا جا رہا ہے اور پیٹا جا رہا ہے۔ میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں فوری کارروائی کریں اور کشمیریوں کی اس ظلم و زیادتی اور ہراسانی کو بند کرائیں‘‘۔
لوک سبھا میں پیر کے روز قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے سابق آرمی چیف ایم ایم نراوَنے کی مبینہ یادداشت سے حوالہ دینے کی کوشش پر پیدا ہونے والے تنازع سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’’پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ پارلیمنٹ اور اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔ اسی طرح، ہماری اسمبلی میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ ہمارا اپنا معاملہ ہے۔ نہ تو یہ مناسب ہوگا کہ ہماری اسمبلی پر پارلیمنٹ میں بحث ہو اور نہ ہی میرے لیے یہ درست ہے کہ میں پارلیمنٹ میں ہونے والے واقعات پر تبصرہ کروں‘‘۔
جموں و کشمیر کانگریس کی جانب سے اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ایک رابطہ کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سوال کا جواب نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ ہی دے سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ ہوں، نیشنل کانفرنس کا صدر نہیں۔ آپ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے ملاقات کر کے پارٹی کے مؤقف کے بارے میں ان سے سوال کریں‘‘۔
عمر عبداللہ نے بھارتی مصنوعات پر عائد باہمی محصولات میں کمی کے امریکی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے ان متعدد برآمد کنندگان کو راحت ملے گی جو بڑھتے ہوئے ٹیرف کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت واشنگٹن بھارتی مصنوعات پر عائد باہمی ٹیرف کو موجودہ۲۵فیصد سے کم کرکے۱۸فیصد کر دے گا۔
یہ اعلان بھارت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ امریکہ نے۲۷؍اگست۲۰۲۵سے امریکی منڈیوں میں داخل ہونے والی بھارتی مصنوعات پر بھاری۵۰فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ ٹیرف ہمارے لیے خاصے بوجھل ثابت ہو رہے تھے، اور ہم یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ٹیرف کیوں عائد کیے گئے تھے۔ امریکہ اس بات سے خوش نہیں تھا کہ ہم روس سے تیل خریدتے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے اب روس سے تیل خریدنا بند کر دیا ہے، اور اسی وجہ سے اب یہ ٹیرف ہم پر عائد نہیں کیے جائیں گے‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اگر واقعی بھارتی حکومت نے روس سے تیل کی خریداری روک دی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔تاہم، انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت اب تیل کہاں سے حاصل کرے گی، اور کیا متبادل ذرائع سے تیل خریدنے کی صورت میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا’’اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور دیکھنا پڑے گا‘‘۔
ٹیرف میں کمی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’اس سے ہماری برآمدات کو فائدہ ہوگا، جو ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ ہمارے بہت سے برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ بعض کو تو یہ خدشہ بھی تھا کہ شاید انہیں اپنا کاروبار بند کرنا پڑے۔ اب جبکہ ٹیرف کم کر دیے گئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ان کے کاروبار دوبارہ فروغ پانے لگیں گے۔‘‘










