جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی عدالت کے حکم کے خلاف بھارت کا دوٹوک مؤقف

’چونکہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت التوا میں ہے، اس لیے بھارت کسی جواب کا پابند نہیں‘یہ پاکستان کی ایک اور چال ہے ‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-03
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی عدالت کے حکم کے خلاف بھارت کا دوٹوک مؤقف
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

سرینگر: دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کے تحت نئی سماعتیں اور دستاویزات طلب کرنے کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے، لیکن بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی ان میں شرکت کرے گا۔
تازہ تنازع اس حکم سے پیدا ہوا ہے جو گزشتہ ہفتے سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت(سی او اے) نے جاری کیا، جس میں بھارتی پن بجلی منصوبوں کے آپریشنل ’’پونڈیج لاگ بکس‘‘ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت کے مطابق یہ دستاویزات اُس عمل کا حصہ ہیں جسے وہ ’’میرٹس پر دوسرے مرحلے‘‘ کا نام دے رہی ہے۔
عدالت نے۲؍اور۳فروری کو دی ہیگ کے پیس پیلس میں سماعتیں مقرر کی ہیں اور یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ بھارت نے نہ کوئی جوابی تحریری موقف داخل کیا ہے اور نہ ہی شرکت کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم نئی دہلی کے نزدیک یہ پوری کارروائی بے معنی ہے۔سرکاری ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’’نام نہاد غیر قانونی طور پر قائم کی گئی‘‘ ثالثی عدالت ’’متوازی کارروائیاں‘‘ جاری رکھے ہوئے ہے (نیوٹرل ایکسپرٹ کے عمل کے علاوہ)۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے ’’چونکہ ہم اس عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے اس کی کسی بھی خط و کتابت کا جواب نہیں دیتے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے علاوہ، چونکہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت التوا میں ہے، اس لیے بھارت کسی جواب کا پابند نہیں۔ یہ پاکستان کی جانب سے ہمیں دوبارہ عمل میں گھسیٹنے کی ایک چال ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ ہم اب بھی اس میں شریک ہیں۔‘‘
اس غیر معمولی تعطل کا پس منظر نئی دہلی کا وہ فیصلہ ہے جو۲۳؍اپریل۲۰۲۵کو کیا گیا، جب پہلگام میں پاکستان سے منسلک دہشت گردوں کے ہاتھوں۲۶شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے اگلے ہی دن بھارت نے باضابطہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا میں‘‘ رکھ دیا اور۱۹۶۰کے بعد پہلی مرتبہ پانی کے تعاون کو پاکستان کی جانب سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کے استعمال سے جوڑ دیا۔
یہ اقدام آپریشن سندور کے ساتھ سامنے آیا اور بھارت کی پاکستان پالیسی میں ایک فیصلہ کن موڑ کی علامت تھا—یعنی دشمنی کے ماحول میں تعاون جاری نہیں رہ سکتا۔
اسلام آباد کا ردعمل بوکھلاہٹ کا شکار رہا ہے۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران پاکستان نے سفیروں کو طلب کیا، وفود عالمی دارالحکومتوں میں بھیجے، اقوامِ متحدہ کو خطوط لکھے، دس سے زائد قانونی کارروائیاں شروع کیں اور کئی بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کیں—سب ایک ہی بیانیے کے گرد گھومتی رہیں کہ بھارت نے اس کی سب سے نازک کمزوری کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان کی تقریباً۸۰سے۹۰فیصد زراعت سندھ طاس کے نظام پر منحصر ہے۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بمشکل ایک ماہ کے بہاؤ کے برابر ہے۔ اس کے بڑے ذخائر—تربیلا اور منگلا—اطلاعات کے مطابق ڈیڈ اسٹوریج کے قریب ہیں۔ جو کبھی ایک تکنیکی معاہدہ تھا، اب ایک اسٹریٹجک دباؤ کا ذریعہ بن چکا ہے۔
بھارت کے مؤقف کے باوجود، دی ہیگ میں قائم عدالت ایسے کارروائی کر رہی ہے جیسے معاہدہ پوری طرح نافذ العمل ہو۔۲۴جنوری۲۰۲۶کے ایک حکم میں عدالت نے۲؍اور۳فروری کی سماعتوں کا تفصیلی شیڈول جاری کیا اور واضح کیا کہ اگر بھارت شریک نہیں ہوتا تو پاکستان اکیلا پیس پیلس میں دلائل پیش کرے گا۔
پانچ دن بعد، ایک اور حکم میں، عدالت نے پاکستان کی درخواست پر بھارت سے بگلیہار اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے اندرونی آپریشنل لاگ بکس طلب کیے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا بھارت نے ماضی میں اپنی پونڈیج گنجائش کے حسابات ’’بڑھا چڑھا کر‘‘ پیش کیے تھے۔ عدالت نے یہ بھی انتباہ دیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں وہ ’’منفی نتائج‘‘ اخذ کر سکتی ہے یا پاکستان کو یہ اجازت دے سکتی ہے کہ وہ وہی دستاویزات نیوٹرل ایکسپرٹ کے عمل سے حاصل کر کے پیش کرے۔
عدالت نے صراحت کے ساتھ کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا میں رکھنے کا مؤقف ’’عدالت کے اختیار کو محدود نہیں کرتا۔‘‘یہی وہ نکتہ ہے جسے بھارت مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے تنازعاتی نظام کے تحت، تکنیکی اختلافات نیوٹرل ایکسپرٹ کے پاس جاتے ہیں جبکہ قانونی تنازعات ثالثی عدالت میں۔ بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ موجودہ معاملات نیوٹرل ایکسپرٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے ثالثی عدالت کو متحرک کرنا ’’فورم شاپنگ‘‘ کے مترادف ہے۔
نئی دہلی کی جانب سے ثالثی عدالت سے عدم تعاون اسی تشریح پر مبنی ہے۔ صرف نیوٹرل ایکسپرٹ کے عمل کو تسلیم کر کے بھارت یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کو اس تنازع کو وسیع قانونی اور سیاسی تماشہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔عدالت کے تازہ احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں متوازی عملوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کرانے کی کوشش کر رہی ہے—ایک ایسا اقدام جسے بھارت ناجائز سمجھتا ہے۔
دی ہیگ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض پن بجلی منصوبوں کے حسابی تنازع تک محدود نہیں۔ یہ دہائیوں کی ضبط و تحمل کے بعد بھارت کے اس فیصلے کا پہلا بڑا امتحان ہے جس کے تحت اس نے معاہدے کے فریم ورک کو سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا بقا کی ضرورت ہے، جبکہ بھارت کے لیے لاتعلقی ایک اسٹریٹجک انتخاب۔
ثالثی عدالت احکامات جاری کرتی رہے، سماعتیں مقرر کرے اور طریقہ کار سے متعلق ہدایات دیتی رہے۔ لیکن بھارت کی عدم شرکت اور معاہدے کے باضابطہ طور پر التوا میں ہونے کی وجہ سے یہ کارروائیاں ایک یک طرفہ قانونی ریکارڈ بننے کا خطرہ رکھتی ہیں، نہ کہ کسی لازمی فیصلے کی بنیاد۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

۲۰۲۵میں جموں و کشمیر میں ایک کروڑ۷۸ لاکھ سیاح آئے

Next Post

’معیشت مضبوط ترقیاتی رفتار کا مظاہرہ کر رہی ہے‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
’معیشت مضبوط ترقیاتی رفتار کا مظاہرہ کر رہی ہے‘

’معیشت مضبوط ترقیاتی رفتار کا مظاہرہ کر رہی ہے‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.