تہران /29جنوری //
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’تہران امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب بات چیت ایمانداری اور حقیقی ہو۔‘
انھوں نے کہا، ’اگرچہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکی صدر اس قسم کی بات چیت کے خواہاں ہیں؛ وہ صرف اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس انٹرویو میں، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے حالیہ مظاہروں کے لیے ’غیر ملکیوں‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ ’منصوبہ‘ بیرون ملک ڈیزائن کیا گیا تھا۔‘
قالیباف نے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کا ذکر کیے بغیر امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا کہ ’ایرانی حکومت حالیہ بدامنی میں مرنے ہونے والے تقریباً 300 سکیورٹی اہلکاروں کے خون کا بدلہ لینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘
اس دوران اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ان کی سختی سے تردید اور مذمت‘ کی جائے اور سلامتی کونسل اس معاملے پر فیصلہ کن ردعمل دے۔
اپنے خط میں، امیر سعید نے مسٹر ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس کو ’غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے واضح طور پر منافی‘ قرار دیا۔
ایران نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ’اس طرح کے رویے سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہو گا۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’کسی بھی مسلح حملے یا جارحیت کی صورت میں، ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور لوگوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اپنا حق استعمال کرے گا۔ۓ
مزید یہ کہ ’امریکہ اپنے کنٹرول سے باہر کسی بھی غیر متوقع نتائج کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری قبول کرے گا۔‘
گذشتہ روز انھوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک پوسٹ میں، امریکی صدر نے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی ایران روانگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاز اور اس کے ساتھ موجود ٹاسک فورس ضرورت پڑنے پر ’تیز رفتاری اور شدت کے ساتھ‘ اپنا مشن انجام دینے کے لیے ’تیار‘ اور ’قابل‘ ہے۔








