سرینگر: کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) کا عملہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے پوری مستعدی، عزم اور صلاحیت کے ساتھ میدان میں تعینات ہے۔
کے پی ڈی سی ایل کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق، تیز رفتار آندھیوں اور شدید برفباری کے باعث متعدد مقامات پر بجلی کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بھاری برفباری کے سبب سڑکوں کی بندش اور محدود رسائی کے باعث کئی علاقوں میں گزشتہ روز بحالی کا کام انجام نہیں دیا جا سکا۔
بیان میں کہا گیا کہ بجلی بحالی کا عمل، جو ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے، نہایت جامع نوعیت کا ہے اور اس میں بجلی کی لائنوں پر گرے ہوئے منہدم شدہ چھتوں کو ہٹانا، ہائی ٹینشن (ایچ ٹی) اور لو ٹینشن (ایل ٹی) نیٹ ورکس کی مرمت، اور خراب شدہ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز (ڈی ٹی) کی تبدیلی شامل ہے۔
سب ٹرانسمیشن سطح پر۳۳کے وی کی مجموعی۱۳۵لائنوں میں سے۱۲۰لائنیں بحال کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں اس سطح پر نیٹ ورک کا تقریباً۹۰فیصد حصہ دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔
اسی طرح ڈسٹری بیوشن سطح پر۱۱کے وی کے۱۳۰۲فیڈرز میں سے۹۱۲فیڈرز کو دوبارہ بجلی فراہم کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے متعلقہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال ہو چکی ہے۔
بجلی بحالی کے عمل کی مسلسل نگرانی حکومت کے فائنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکریٹری) جے کے پی ڈی ڈی کی سطح پر کی جا رہی ہے، جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ڈی سی ایل، چیف انجینئر (ڈسٹری بیوشن) اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس عمل کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔
اس وقت اسٹیٹ لوڈ ڈسپیچ سینٹر (ایس ایل ڈی سی) کی جانب سے۱۲۲۰میگاواٹ کا لوڈ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام کے ایک بڑے حصے میں بجلی کی کھپت بحال ہو چکی ہے۔
مزید یہ کہ شوپیاں، کولگام اور بڈگام کے بالائی علاقوں میں بجلی بحال کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جو تیز ہواؤں اور شدید برفباری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ شیر ی کے مقام پر ڈلنہ ایل جے ایچ پی۱۳۲کے وی ٹرانسمیشن لائن کے ایک ٹاور کو پہنچنے والے نقصان کے باعث بحالی کے عمل میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ جے کے پی ٹی سی ایل (کشمیر) ایمرجنسی ریسٹوریشن سسٹم (ای آر ایس) نصب کر کے اس لائن کی بحالی میں سرگرم عمل ہے، جس کے بعد بارہمولہ اور اُڑی کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی مرحلہ وار بحال کر دی جائے گی۔










