سرینگر: جموں خطے کے بالائی علاقوں میں معتدل سے بھاری برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو گئے، جن میں معروف شری ماتا ویشنو دیوی مندر بھی شامل ہے۔
برفباری کے نتیجے میں اہم سڑکوں پر ٹریفک معطل ہو گئی جبکہ فضائی اور ریل خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ اس کے برعکس میدانی علاقوں، بشمول جموں شہر، میں ہونے والی معتدل بارشوں نے دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری خشک سالی کا خاتمہ کر دیا۔
حکام کے مطابق پونچھ اور اُدھم پور اضلاع کے برف میں گھرے علاقوں سے۱۰۰سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
محکمۂ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جمعرات کی شام کے بعد تیز ہواؤں کے ساتھ بیشتر بالائی علاقوں میں برفباری شروع ہوئی، جبکہ رات بھر جموں شہر سمیت میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی۔
حکام نے بتایا کہ رام بن، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ، راجوری، ریاسی، اُدھم پور اور کٹھوعہ اضلاع کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری رہا، جہاں بعض مقامات پر چند انچ سے لے کر دو فٹ سے زائد برف جمع ہو گئی۔
بالائی علاقوں میں گزشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتے میں بھی برفباری ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم تازہ بارش اور برفباری نے خطے میں طویل خشک موسم کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام کو راحت پہنچائی، بالخصوص کسانوں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ثابت ہوئی۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ پونچھ ضلع کے مینڈھر علاقے میں توتاگلی کے مقام پر برف میں پھنسے۷۰؍افراد کو خراب موسمی حالات کے باوجود بحفاظت نکال لیا گیا۔ اسی طرح کرشنا گھاٹی کے علاقے میں برفباری کے باعث پھنسے۳۰مسافروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ادھر اُدھم پور ضلع کے بسنٹ گڑھ علاقے میں چوچرو گلہ کے مقام پر شدید برفانی طوفان میں پھنسے۱۲؍افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، کو پولیس نے ایک اور ریسکیو آپریشن کے دوران بحفاظت نکال لیا۔
دریں اثنا، ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’شری ماتا ویشنو دیوی بھون (تری کوٹا پہاڑیوں، ضلع ریاسی) میں رواں موسم کی پہلی برفباری ہوئی۔ عقیدت مندوں کو یہ دلکش منظر دیکھنے کا موقع ملا، جب تازہ برف نے ماں ویشنو دیوی بھون اور بھیرون مندر کے مقدس احاطے کو اپنی سفید چادر میں لپیٹ لیا، جس سے ماحول میں سکون، عقیدت اور روحانی سرشاری پیدا ہو گئی‘‘۔
احتیاطی تدبیر کے طور پر یاترا کو تارا کوٹ اور بنگنگا دونوں راستوں سے عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں یاترا بحال کر دی گئی۔
ادھر۲۷۰ کلومیٹر طویل جموں،سرینگر قومی شاہراہ ‘ جو کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی واحد ہمہ موسمی سڑک ہے، تازہ برفباری کے باعث بند کر دی گئی، جس کے نتیجے میں ہزاروں گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئیں۔
ٹریفک محکمہ کے ایک افسر نے بتایا’’نویوگ ٹنل (بانہال،قاضی گنڈ سیکشن) کے آس پاس تازہ برفباری کے باعث جموںسرینگر قومی شاہراہ پر دونوں سمتوں میں ٹریفک کی نقل و حرکت معطل کر دی گئی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغل روڈ، سرینگر،لداخ قومی شاہراہ اور سنتھن روڈ کو بھی تازہ برف جمع ہونے کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سڑکوں کی مکمل بحالی اور محفوظ قرار دیے جانے تک سفر سے گریز کریں۔
برفباری کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر راجوری، پونچھ اور کٹھوعہ اضلاع کے بالائی علاقوں میں تمام اسکول بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ پولیس نے تمام اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں خصوصی ہیلپ لائن نمبرز بھی قائم کر دیے ہیں۔










