سرینگر: بھارت نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس پر اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارمز کو اپنے’تقسیم پسند ایجنڈے‘کے فروغ کے لیے غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کے کونسلر‘ ایلڈوس میتھیو پونوسے نےکہا کہ حقِ خود ارادیت کو کثیرالثقافتی اور جمہوری ریاستوں میں علیحدگی پسندی کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پونوسے نے کہا’’ایسے وقت میں جب رکن ممالک کو تنگ نظر مفادات سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کے تمام پلیٹ فارمز اور طریقۂ کار کو اپنے تقسیم پسند ایجنڈے کے لیے مسلسل غلط استعمال کر رہا ہے‘‘۔
بھارت کے مستقل مشن کے کونسلر نے کہا’’یہ فورم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہا، جہاں پاکستان نے بھارت کے ایک اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے، یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر، کا بلا جواز حوالہ دیا‘‘۔
وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ’سیکریٹری جنرل کی جانب سے تنظیم کے کام پر رپورٹ‘ کے عنوان سے بھارت کا قومی بیان پیش کر رہے تھے۔
پونوسے نے مزید کہا’’حقِ خود ارادیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج ایک بنیادی اصول ہے، تاہم اس حق کو کثیرالثقافتی اور جمہوری ریاستوں میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ پاکستان اس کا عادی ہو چکا ہے، لیکن بہتر ہوگا کہ وہ بے بنیاد الزامات اور جھوٹ کا سہارا نہ لے اور حقیقت سے بالکل کٹی ہوئی تصویر پیش کرنے سے باز رہے‘‘۔
بھارت کی جانب سے یہ سخت جواب اس وقت سامنے آیا جب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران جموں و کشمیر کا حوالہ دیا۔
پاکستان اقوامِ متحدہ اور اس کے مختلف پلیٹ فارمز پر بار بار جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھاتا ہے، لیکن اس معاملے پر عالمی برادری کی جانب سے اسے کسی قسم کی قابلِ ذکر حمایت حاصل نہیں ہو پاتی۔
اپنے خطاب میں پونوسے نے اس امر پر بھی زور دیا کہ گلوبل ساؤتھ کو ترقی سے متعلق منفرد چیلنجز درپیش ہیں، جن میں ترقیاتی مالیات، موسمیاتی انصاف اور موسمیاتی مالی وسائل جیسے مسائل شامل ہیں۔
بھارت کے مستقل مشن کے کونسلر نے کہا’’بھارت نے مستقل طور پر ان مسائل کو اقوامِ متحدہ کے تمام پلیٹ فارمز پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں مربوط اور ہدفی فالو اپ اقدامات کی ضرورت ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے، گلوبل ساؤتھ کے جذبات کو ٹھوس اور عملی اقدامات میں ڈھالنا ناگزیر ہے‘‘۔
پونو نے کہا کہ جب اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک ماضی کا جائزہ لے رہے ہیں، تو اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کثیرالجہتی تنظیم، اقوامِ متحدہ، اس وقت کن حالات سے گزر رہی ہے اور آگے کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔
بھارت کے مستقل مشن کے کونسلرسے نے کہا’’اقوامِ متحدہ ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، کیونکہ اسے کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ دنیا کے عوام توقع رکھتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ اپنے تینوں بنیادی ستونوں امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق پر مؤثر انداز میں کام کرے‘‘۔
بھارت نے اس بات پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے اپنے اہم فرائض کی ادائیگی میں مؤثر مداخلت نہ کر پانا، اس کی افادیت، قانونی حیثیت اور ساکھ سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔
پونوسے نے کہا’’یہ مسئلہ خاص طور پر بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے معاملے میں نمایاں ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات کے دوران عالمی برادری کو امید ہے کہ اقوامِ متحدہ انسانی دکھ اور تکالیف کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔‘‘










