تہران/14جنوری //
ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران مخالف احتجاج میں شامل افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
غلام حسین محسنی تہران کے ایک حراستی مرکز کے دورے پر تھے جہاں بتایا گیا کہ وہ حال ہی میں گرفتار کیے گئے ’فسادیوں‘ کے مقدمات کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہے تھے اور براہِ راست زیرِ حراست افراد سے گفتگو کر رہے تھے۔
پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے ٹیلیگرام چینل نے آج صبح اس دورے کی تصاویر اور بیانات شائع کیے۔
عدلیہ کے سربراہ نے کہا کہ وہ مظاہرین جنھوں نے عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے، عمارتوں اور مقامات کو نشانہ بنایا اور ’دہشت گردانہ کارروائیاں کیں، انھیں لازمی طور پر مقدمے اور سزا کے لیے ترجیح دی جانی چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام حالیہ بے چینی میں شامل کچھ اہم شخصیات کے خلاف کھلے مقدمات چلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جن کی کارروائی میڈیا کے لیے قابلِ رسائی ہوگی۔
غلام حسین ایجئی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک انسانی حقوق کے گروپ نے حالیہ اندازے میں بتایا کہ حکومتی کریک ڈاؤن میں 2400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ بی بی سی اس سے قبل ایسی ویڈیوز کی تصدیق کر چکا ہے جن میں سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔









