جائزہ اجلاس میں بی جے پی اراکینِ اسمبلی کو جموں میں ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال پر تحریری اطلاع کی یقین دہانی
جموں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں قومی اداروں کے قیام کے معاملے پر، ان کے بقول، منتخب نوعیت کے غصے پر سوال اٹھایا۔
ڈپٹی کمشنر آفس، جموں میں ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مالی حالت اچھی نہیں ہے اور فیصلے مجموعی قابلِ عملیت کو مدنظر رکھ کر کرنے پڑتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی)اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ(آئی آئی ایم)جیسے ممتاز ادارے جموں کو دیے گئے، تو اس وقت کسی نے علاقائی توازن یا برابری کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس وقت کشمیر کو اس کے مقابلے میں کیا ملا اور کیوں یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ ایک ادارہ جموں کو اور ایک کشمیر کو دیا جائے۔
مجوزہ نیشنل لا یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کا مقام ابھی تک طے بھی نہیں ہوا ہے، لیکن امتیاز کی بحث پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف اس وقت بار بار یہ مسئلہ اٹھانا، جب کسی تجویز پر غور ہو رہا ہو، اور اس دوران خاموش رہنا جب بڑے ادارے کسی ایک خطے میں قائم ہوں، ناانصافی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کے منتخب دلائل منصفانہ ترقی سے متعلق وسیع تر مباحثے کو کمزور کرتے ہیں اور یونین ٹیریٹری کو درپیش مالی اور انتظامی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصلوں کو علاقائی سیاست کی عینک سے دیکھنے کے بجائے متوازن انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت تمام خطوں کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے اور سیاسی آوازوں سے اپیل کی کہ وہ امتیاز کے بیانیے کو منتخب انداز میں استعمال کر کے غیر ضروری تقسیم پیدا کرنے سے گریز کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنوری اور فروری بڑے فیصلے کرنے کے لیے موزوں وقت نہیں ہیں، کیونکہ اس مدت میں کی جانے والی کسی بھی تخصیص کی میعاد مارچ میں ختم ہو جائے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہم نے اجلاس میں ایک جائزہ لیا ہے۔ بڑے فیصلے آئندہ برس کے بجٹ میں شامل کیے جائیں گے۔ ضلع کے لیے مختص فنڈز کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے جبکہ ہم معمولی خامیوں کو دور کر رہے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ وزیرات روڈ سے ڈپٹی کمشنر آفس میں اجلاس کے مقام تک تقریباً آدھا کلو میٹر پیدل چل کر پہنچے۔ اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سرندر چودھری، کابینہ وزرا، چیف سیکریٹری اٹل دھلو اور جموں ضلع کے اراکینِ اسمبلی نے شرکت کی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’مرکزی حکومت کی جانب سے جتنی بھی مدد ملے، وہ بہتر ہوگی کیونکہ جموں و کشمیر کی مالی حالت اچھی نہیں ہے۔ ہم گزشتہ برس کے بجٹ فریم ورک کے ساتھ آگے بڑھیں گے، جاری اسکیموں کو جاری رکھیں گے اور کچھ نئی پہل بھی کریں گے‘‘۔
وزیرا علیٰ نے بجٹ کے حوالے سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا’’یہ ممکن نہیں کہ میں یہاں کھڑا ہو کر آپ کو بجٹ کے بارے میں سب کچھ بتانا شروع کر دوں۔‘‘
اس دوران وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن بی جے پی کے اراکینِ اسمبلی کو یقین دلایا کہ ان میں سے ہر ایک کو ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال سے متعلق تفصیلی تحریری اطلاع فراہم کی جائے گی۔
یہ یقین دہانی وزیر اعلیٰ نے جموں ضلع میں مجموعی ترقیاتی منظرنامے کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران بی جے پی کے اراکینِ اسمبلی کو کرائی، جس میں اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تیزی لانے، آبپاشی سہولیات کو بہتر بنانے، سیلاب سے بحالی کے کاموں کو مضبوط کرنے اور فنڈز کے بہترین استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اراکینِ اسمبلی کو یقین دلایا کہ ہر رکن کو ایک تفصیلی خط موصول ہوگا، جس میں ان منصوبوں کی صورتحال درج ہوگی جو شروع کیے جا سکتے ہیں، جو اب تک شروع نہیں ہو سکے، ان کی وجوہات، اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی شامل ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کو یہ محسوس ہو کہ کسی منصوبے کو ترجیح دی گئی اور پھر اسے پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ آپ کو ایک خط موصول ہوگا جس میں یہ وضاحت ہوگی کہ ہم کیا کر رہے ہیں، کیا کر چکے ہیں اور آئندہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ سب کو صورتحال سے باخبر رکھا جا سکے‘‘۔
عمرعبداللہ نے ہدایت دی کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشن یووا کی سرگرمیوں کے انعقاد کے دوران متعلقہ حلقوں کے اراکینِ اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ ان اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ مستقل نوعیت کے سیلابی بحالی کے کاموں کے لیے۱۴۰۰کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی جا چکی ہے، وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ جموں ضلع کے لیے مختص حصے کو دانشمندانہ انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ دیرپا اور طویل مدتی حل یقینی بنائے جا سکیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’جو پانی کی سطحیں ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ۲۰۱۴ میں دیکھی گئی سطحوں کے مشابہ ہیں۔ ہماری بحالی کے کام اسی کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بند ہونے چاہئیں تاکہ آئندہ شدید بارشوں میں بنائے گئے اثاثے بہہ نہ جائیں۔ بحالی مستقل ہونی چاہیے، عارضی نہیں‘‘۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے کیپیکس کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو فنڈز کی دستیابی کے مطابق جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
آبپاشی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نہروں کے آخری حصوں (ٹیل اینڈ ایریاز) کا خصوصی طور پر زمینی سطح پر جامع معائنہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مناسب ڈی سلٹنگ اور کسانوں کو منصفانہ طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے متعلقہ وزیر کو ہدایت دی کہ ایک ٹائم ٹیبل تیار کیا جائے اور مقامی اراکینِ اسمبلی کے ہمراہ موقع پر معائنے کیے جائیں۔
ماضی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نہروں کے آخری حصوں میں موجود کسان اکثر ڈی سلٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث انہیں بروقت پانی دستیاب نہیں ہو پاتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں ممکن ہو، ڈی سلٹنگ کے کاموں کو منریگا کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دیا جائے، تاکہ مزدوری کے اخراجات منریگا کے تحت پورے ہوں جبکہ سامان اور مشینری کے اخراجات محکمہ برداشت کرے۔
نہری آبپاشی کی ناکافی سہولت کے باعث کسانوں کے پمپ استعمال کرنے کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے غیر مجاز بجلی کنکشن منقطع نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں بغیر میٹر والے کنکشن کے طور پر باقاعدہ کیا جائے گا۔
عمرعبداللہ نے اعلان کیا کہ اس سال کسانوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کسی اضافے کی تجویز پیش نہیں کی جائے گی۔
جموں کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں میں فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ نے ضلع میں ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ کے 13.48 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کے ای سنگِ بنیاد رکھے اور اسکولی تعلیم، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ اور دیہی ترقی سے متعلق 19.05 کروڑ روپے کے منصوبوں کا ای افتتاح کیا۔
وزیر اعلیٰ نے سیور کلیکشن مشینوں کا بھی افتتاح کیا، جن میں ٹرک پر نصب جیٹنگ کم سیور سکشن مشینیں شامل ہیں۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق، اس موقع پر کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پالن والا کے لیے ایک ایمبولینس کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔










