جموں: وادی کشمیر میں چلہ کلان کی سخت ترین سردیوں کے باوجود دن کا درجہ حرارت عام توقعات کے برعکس نسبتاً بہتر رہا، جبکہ جموں خطہ شدید سردی سے ٹھٹھر گیا۔
محکمہ موسمیات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جموں شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 9.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو وادی کے اکثر علاقوں سے کم ہے ۔ اس موسمی اُتار چڑھاؤنے شہریوں اور ماہرینِ موسمیات دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔
سری نگر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 12.4 ڈگری ریکارڈ ہوا جو گزشتہ کئی برسوں کے چلہ کلان کے اوسط درجہ حرارت سے زیادہ ہے ۔
قاضی گنڈ میں 13.9 ڈگری، پہلگام میں 10.8 ڈگری، کپوارہ میں 10.7 ڈگری اور کولگام کے کوکر ناگ علاقے میں 11.5 ڈگری درجہ حرارت نوٹ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موسمی صورتحال گزشتہ برسوں کے رجحانات سے بالکل مختلف ہے ۔
اس صورتحال پر شہریوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ سری نگر کے حبہ کدل علاقے کے۶۸سالہ غلام محی الدین نے بتایا’’میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے کہ چلہ کلان میں سری نگر کا دن جموں سے گرم ہو۔ یہ تو موسم کی پوری الٹ پلٹ ہے ، لوگ واقعی حیران ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے ‘‘۔
پہلگام سے تعلق رکھنے والے محمد رفیق، جو کہ سیاحتی شعبے سے وابستہ ہیں، نے کہا’’پہلگام میں سردی تو ہے لیکن جموں جیسی کپکپاہٹ نہیں۔ وہاں کے دوست بتا رہے تھے کہ دھوپ بھی سردی کم نہیں کر پا رہی۔ یہ صورتحال عجیب بھی ہے اور تشویش ناک بھی کہ پہاڑ گرم اور میدانی علاقے سرد ہو رہے ہیں‘‘۔
جموں کے گاندھی نگر علاقے کے رہائشی سنجے شرما نے بتایا کہ پورے شہر میں سردی کا معمول پچھلے کئی برسوں سے مختلف ہے ۔ انہوں نے کہا، ’’ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کہ سری نگر میں سردی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے مگر پچھلے دو دن سے جموں میں لوگ گھروں میں ہیٹر جلا کر بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے جموں میں چلہ کلان آ گیا ہو‘‘۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ جموں میں سردی کی شدت کی بنیادی وجہ بادلوں کی گھنی تہہ اور شدید سرد شمالی ہواؤں کا دباؤہے ، جو دن کے وقت بھی سورج کی گرمی کو زمین تک پہنچنے نہیں دیتے ۔ اس کے برخلاف وادی کشمیر میں خشک موسم اور بادلوں کی کمی نے دن کے وقت درجہ حرارت کو معمول سے کچھ بہتر رکھا ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے دو سے تین روز تک جموں خطہ شدید سردی کی لپیٹ میں رہے گا جبکہ وادی میں دن کے وقت معمولی بہتری کے باوجود راتیں یخ بستہ رہیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو کشمیر اور جموں دونوں میں موسم کا توازن مزید متاثر ہوسکتا ہے ، جس کے زراعت اور روزمرہ زندگی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے ۔
اس دوران کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت میں بہتری ریکارڈ ہونے سے لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے کسی حد تک راحت نصیب ہوئی ہے ۔
کشمیر ویدر کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جہاں گزشتہ شب کا درجہ حرارت منفی5.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام دوں میں شبانہ درجہ حرارت منفی3.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت بالترتیب منفی6.2 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی7.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
شمالی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں شبانہ درجہ حرارت منفی3.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
وادی میں جنوبی کشمیر کا ضلع پلوامہ سرد ترین علاقہ رہا ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ اننت ناگ، پلوامہ اور کولگام اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی3.9 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی5.2 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی3.4 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی2.3 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی2.6 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
لداخ یونین ٹریٹری کے لیہہ اور کرگل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی10.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی9.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں اگلے کچھ روز کے دوران موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے ۔
ادھرشدید سردیوں اور صبح کے وقت گہری دھند رہنے نے جموں بھر میں معمولات زندگی کو متاثر کر دیا ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ گہری دھند کی وجہ سے صبح کے وقت مرئیت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل وحمل متاثر ہوجاتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کو بہت دھیمی رفتار اور ہیڈ لائیٹس کو چالو کرکے ہی چلنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے صبح کے وقت سڑکوں پر بہت ہی کم گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔
ادھر ٹھنڈ میں اضافہ ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ سخت سردیوں اور دھند کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے پر ہیز کر رہے ہیں۔
ایک دکاندار نے میڈیا کو بتایا’’سخت سردیوں اور ٹھنڈ کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا کاروبار متاثر ہو رہا ہے ‘‘۔
انہوں نے کہاظظہم بھی مجبوری کی حالت میں ہی دکان پر آتے ہیں ورنہ صحت سب سے اہم ہے ، ہم بھی اس ٹھنڈ میں کہاں گھر سے نکلتے لیکن پیچھے عیال ہے جس کو پالنا ہے ‘‘۔
ایک اور تاجر نے کہا’’دھند کی وجہ سے ہر کوئی بندہ پریشان ہے ، دکاندار، گاڑی والا، ریڑھی والا ہر کوئی مشکل میں ہے ، کاروبار پر بہت اثر پڑ رہا ہے ‘‘۔
انہوں نے کہا کہ کسان بھی پریشان ہیں کیونکہ ٹھنڈ تو ہے لیکن بارش نہیں ہو رہی ہے جس سے ان کی فصلیں سوکھ رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جموں صوبے کے میدانی علاقوں میں اگلے پانچ دنوں کے دوران درمیانی درجے کی دھند کا راج قائم رہ سکتا ہے ۔
ادھر دھند کی وجہ سے جموں ہوائی اڈے پر پیر کو تین پروازوں میں تاخیر ہوئی۔










