نئی دہلی: قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال نے ہفتہ کے روز کہا کہ بھارت کو نہ صرف سرحدوں پر بلکہ ہر سطح پر، بالخصوص معاشی طور پر، خود کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ حملوں اور غلامی کی دردناک تاریخ کا’بدلہ‘ لیا جا سکے۔
یہ بات انہوں نے یہاں وِکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈووال نے مہاتما گاندھی، سبھاش چندر بوس اور بھگت سنگھ جیسے مجاہدینِ آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کا حوالہ دے کر اپنی بات واضح کی۔
ملک بھر سے آئے تین ہزار نوجوان مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے۸۱سالہ سابق انٹیلی جنس بیورو ڈائریکٹر نے کہا’’آپ خوش نصیب ہیں کہ ایک آزاد بھارت میں پیدا ہوئے۔ میں ایک غلام بھارت میں پیدا ہوا تھا۔ ہمارے آبا ؤ اجداد نے آزادی کے لیے جدوجہد کی اور بے شمار آزمائشوں سے گزرے‘‘۔
قومی سلامتی کے شمیر نے کہا’’بھگت سنگھ جیسے لوگوں کو پھانسی دی گئی، سبھاش چندر بوس نے پوری زندگی جدوجہد کی اور مہاتما گاندھی کو ستیہ گرہ کرنا پڑا، تب جا کر ہمیں آزادی ملی‘‘۔
ڈووال نے کہا’’بدلہ ایک اچھا لفظ نہیں ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے اور اس ملک کو دوبارہ عظمت کے اس مقام تک لے جانا ہے جہاں وہ صرف سرحدی سلامتی ہی نہیں بلکہ معیشت، سماجی ترقی اور ہر پہلو میں مضبوط ہو‘‘۔
تقریب میں موجود نوجوانوں کو مستقبل کا قائد قرار دیتے ہوئے، ڈووال نے مضبوط قیادت کی ضرورت پر زور دیا، جس کا مظاہرہ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا ہے۔
این ایس اے کاکہنا تھا’’نپولین نے ایک بار کہا تھا، ‘مجھے ایک ہزار شیروں سے خوف نہیں جو ایک بھیڑ کی قیادت میں ہوں، لیکن مجھے ایک ہزار بھیڑوں سے خوف ہے جن کی قیادت ایک شیر کر رہا ہو‘۔قیادت کی اہمیت یہی ہے‘‘۔
ڈووال نے کہا’’ہم ایک ترقی یافتہ معاشرہ تھے۔ ہم نے کبھی دوسری تہذیبوں یا ان کے مندروں پر حملہ نہیں کیا، لیکن چونکہ ہم سلامتی کے معاملے میں خود آگاہ نہیں تھے، اس لیے تاریخ نے ہمیں سبق سکھایا۔ کیا ہم نے وہ سبق سیکھا؟‘‘
این ایس اے نے کہا’’ سبق کو یاد رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر نوجوان اسے بھول گئے تو یہ ملک کے لیے ایک المیہ ہوگا‘‘۔ڈووال نے کہا کہ دنیا میں ہر تنازع سلامتی کے خدشات سے جنم لیتا ہے۔
ڈووال’’تنازعات کیوں ہوتے ہیں؟ ایسا نہیں ہے کہ لوگ نفسیاتی مریض ہوں اور لاشیں دیکھ کر خوش ہوتے ہوں۔ تنازع اس لیے ہوتا ہے کہ آپ اپنی حفاظت کے لیے دشمن ملک کو زیر کرنا چاہتے ہیں اور اسے اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرتے ہیں۔ آج دنیا میں کسی بھی تنازع کو دیکھ لیجیے، وہ سلامتی کے نام پر اپنی شرائط مسلط کرنے کے بارے میں ہے‘‘۔
انہوں نے کہا’’لہٰذا ہمیں بھی اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔ یہ ایک طاقتور جذبہ ہے، ہمیں اس سے تحریک لینی چاہیے‘‘۔
ڈووال نے اپنی تقریر کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ نوجوانوں کے مجمع سے خطاب کی دعوت پر وہ خود حیران تھے، جو انہیں وزیر امورِ نوجوانان و کھیل منسکھ منڈاویا کی جانب سے دی گئی تھی۔
این ایس اے نے مزاحیہ انداز میں کہا’’آپ میں سے زیادہ تر لوگ مجھ سے کم از کم ساٹھ سال چھوٹے ہیںاور میں سوچ رہا تھا کہ میں آپ سے آخر کس موضوع پر بات کر سکتا ہوں۔ میری جوانی تو کب کی گزر چکی ہے، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ کی جوانی کیا ہے‘‘۔تاہم انہوں نے اپنی’زندہ تجربات‘کی بنیاد پر نوجوانوں کو کچھ نصیحتیں بھی کیں فیصلہ کن بنیں اور اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھیں۔
این ایس اے نے کہا’’اور یاد رکھیے، خواب زندگی نہیں بناتے، وہ صرف اس کی سمت متعین کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ خواب ایک دن میں پورے نہیں ہوتے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا،’’خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے آپ کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ کے فیصلے درست ہیں۔ حوصلہ افزائی عارضی ہوتی ہے، مگر نظم و ضبط دیرپا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمت نہ ہاریں، ثابت قدمی بہت ضروری ہے۔ اپنے آپ پر اعتماد نہ کھوئیں‘‘۔
این ایس اے نے کہا کہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور سائنس میں اختراع پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا’’کارکردگی سے زیادہ طاقتور کوئی پیغام نہیں ہوتا۔ خاموشی سے جدت پیدا کریں اور کامیابی حاصل کریں۔ پروپیگنڈا پیغام نہیں پہنچا سکتا، صرف آپ کا عمل ہی پیغام دیتا ہے۔ یاد رکھیں، تمام بہادر لوگ صابر ہوتے ہیں، اور تمام بزدل بے صبرے اور شور مچانے والے ہوتے ہیں۔‘‘










