نئی دہلی: نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے لیہہ کی سول انتظامیہ اور پولیس حکام کو ایک نوٹس جاری کیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک نابالغ لداخی لڑکی، جو ایک قبائلی بدھ مت برادری سے تعلق رکھتی ہے اور دسمبر کے اواخر میں اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی، بعد ازاں ’سری نگر میں ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ پائی گئی‘، جیسا کہ کیس کی کارروائی میں درج ہے۔
کارروائی کے مطابق، اس وقت لڑکی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی(سی ڈبلیو سی) کی نگرانی میں ہے اور’ذہنی صدمے‘کا شکار ہے۔
یہ بات۲ جنوری کی تاریخ والی کارروائی میں کہی گئی ہے۔اس معاملے میں شکایت کنندہ مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال سے تعلق رکھنے والے ساگر بھانتے ہیں۔کارروائی میں کہا گیا ہے’’کایت کنندہ نے الزام لگایا کہ۲۶دسمبر کو خالستے کی ایک نابالغ لداخی لڑکی، جو ایک قبائلی بدھ مت برادری سے تعلق رکھتی ہے، اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی‘‘۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس اسٹیشن خالستے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی اور۲۸دسمبر۲۰۲۵کودفعہ۱۳۷(۲) بی این ایس اور پوکسو ایکٹ کے تحت۔ پولیس تفتیش کے دوران مذکورہ لڑکی سری نگر میں ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ پائی گئی۔
کارروائی میں مزید کہا گیا ہے’’فی الحال لڑکی سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہے اور وہ اس وقت ذہنی صدمے سے گزر رہی ہے‘‘۔
شکایت کنندہ نے کمیشن سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مطالبہ کیا ’’جرم میں ملوث دیگر افراد کے کردار کی غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے، متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے، اور تحفظ کے ساتھ ساتھ طبی، نفسیاتی اور قانونی معاونت کے ذریعے مشاورت فراہم کی جائے‘‘۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے’’مقامی سطح پر سماجی دباؤ کے باعث اس حساس معاملے کو وہ سنجیدگی نہیں مل رہی جس کا یہ مستحق ہے۔ قانون کے مطابق پولیس اور انتظامیہ سے تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ طلب کی جانی چاہیے‘‘۔
ہیومن رائٹس پینل نے کہا کہ شکایت میں عائد الزامات بادی النظر میں متاثرہ لڑکی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی معلوم ہوتے ہیں۔نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک بنچ، جس کی صدارت اس کے رکن پریانک کانونگو کر رہے ہیں، نے تحفظِ انسانی حقوق ایکٹ‘۱۹۹۳ کی دفعہ۱۲کے تحت اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔
کارروائی میں مزید کہا گیا’’رجسٹری کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)، لیہہ اور ایس ایس پی/ڈی آئی جی، لیہہ، لداخ کو نوٹس جاری کرے، اور شکایت میں عائد الزامات کی جانچ کر کے سات دن کے اندر ایکشن ٹیکن رپورٹ کمیشن کے معائنہ کے لیے پیش کی جائے۔‘‘










