مرکز نے تعمیرِ نو اور بحالی کے تمام کاموں کی تکمیل کی آخری تاریخ اگست۲۰۲۶مقرر کی گئی ہے
سرینگر: حکام نے جمعرات کو بتایا کہ مرکز نے جموں و کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو اور بحالی کے کاموں کے لیے پہلی قسط کے طور پر۹۴۴کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔
یہ رقم مجموعی طور پر منظور شدہ۱۴۳۰ کروڑ روپے کے پیکیج کے تحت جاری کی گئی ہے، جو سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے منظور کیا گیا تھا، جن میں تباہ کن کشتواڑ بادل پھٹنے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق تعمیرِ نو کے اس پیکیج کی منظوری وزارتِ داخلہ نے دی ہے، جو خاص طور پر جموں خطے کے حساس اور سیلاب زدہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کے جائزے کے بعد عمل میں آئی۔
یہ فنڈز سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوامی بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری سہولیات کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ جموں کے وہ علاقے جو بار بار سیلاب کی زد میں آتے ہیں، انہیں ترجیح دی جائے گی تاکہ مکینوں کے لیے طویل مدتی تحفظ اور مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیکیج کشتواڑ بادل پھٹنے کا واقعہ سے جڑی بحالی سرگرمیوں کا بھی احاطہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں سڑکوں، عمارتوں اور عوامی سہولیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔
حکام نے بتایا کہ منظور شدہ پیکیج کے تحت تعمیرِ نو اور بحالی کے تمام کاموں کی تکمیل کی آخری تاریخ اگست۲۰۲۶مقرر کی گئی ہے۔ عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کاموں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنائیں۔
حکام نے مزید کہا کہ پہلی قسط کی اجرائیگی سے زمینی سطح پر کاموں میں تیزی آئے گی اور متاثرہ برادریوں کو فوری راحت ملے گی، جبکہ پیش رفت اور رہنما اصولوں کی تعمیل کی بنیاد پر مزید اقساط مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔
مرکز نے آفات کے بعد بحالی کے عمل میں جموں کشمیر کی مدد اور مستقبل کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس دوران چیف سیکریٹری‘اتل ڈلو نے بروقت معاونت پر حکومتِ ہند اور وزارتِ داخلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون نہ صرف مستقبل کی آفات سے نمٹنے کے لیے یونین ٹیریٹری کی تیاری کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ سڑکوں، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور پانی کی فراہمی کے نظام سمیت تباہ شدہ عوامی اثاثوں کی بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کو بھی ممکن بنائے گا۔
ایک اجلاس میں ڈلو نے متعلقہ محکموں، بالخصوص محکمۂ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، ری ہیبلیٹیشن اینڈ ریکنسٹرکشن اور محکمۂ اسکول ایجوکیشن کو ہدایت دی کہ وہ منظور شدہ فنڈنگ کے تحت اہل تخفیفی کاموں کی فوری نشاندہی کریں اور اسکیم کی رہنما ہدایات کے مطابق اگست۲۰۲۶تک ان کی تکمیل یقینی بنائیں۔
فنڈز کے بہترین استعمال پر زور دیتے ہوئے، چیف سیکریٹری نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ جاری کی گئی۹۴۴ کروڑ روپے کی پہلی قسط کو مکمل طور پر استعمال کریں اور زیرِ التوا مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں میں سے کم از کم ایک بل کو’ ایس این اے سپرش‘ کے ذریعے پراسیس کیا جائے۔
ڈلو نے اس ہدف کے حصول کے لیے۷ جنوری۲۰۲۶ کی آخری تاریخ مقرر کی اور محکمۂ خزانہ کو روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔انہوں نے ایس اے ایس سی آئی کے تحت اگلے مالی سال کے لیے منصوبوں کی بروقت نشاندہی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ایسے کاموں کو ترجیح دیں جو اسکیم کے تقاضوں کے مطابق ایک ہی مالی سال میں مکمل کیے جا سکیں۔
ایس اے ایس سی آئی کے نفاذ پر تازہ صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ۲۷محکموں کے تحت۲۲۲کام منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں۲۶۱ جاری منصوبے اور۶۰نئے کام شامل ہیں۔ منظور شدہ الاٹمنٹ میں سے۹۴۴کروڑ روپے پہلی قسط کے طور پر جاری کیے گئے ہیں، جن کے مقابلے میں اب تک۷۵۸کروڑ روپے کے اخراجات درج ہو چکے ہیں۔
ڈولو نے محکموں پر زور دیا کہ وہ عمل درآمد میں تیزی لائیں، بالخصوص ان۹۵ منصوبوں پر جن میں اب تک کوئی خرچ ظاہر نہیں ہوا، تاکہ مقررہ مدت کے اندر فنڈز کا مکمل استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
چیف سیکریٹری نے مزید بتایا کہ حکومتِ ہندکے تحت اضافی الاٹمنٹ کی منظوری جموں و کشمیر کی جانب سے ابتدائی قرضہ۱۴۳۱کروڑ روپے کے استعمال میں کی گئی پیش رفت کی بنیاد پر دی ہے۔
اس اقدام کے تحت حکومتِ ہند نے سری نگر اور جموں میں یونٹی مالز کے قیام کے لیے۲۰۰کروڑ روپے تک کی خصوصی معاونت منظور کی ہے۔کان کنی کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں محکمۂ مائننگ نے ایک نئی مائنر منرل پالیسی کو نوٹیفائی کیا ہے، جس میں نیلامی پر مبنی الاٹمنٹ کا نظام اور دیگر اصلاحاتی اقدامات شامل ہیں۔
یونین ٹیریٹری نے ڈیجیٹل کراپ سروے کے تحت یہ اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومتِ ہند نے اس جزو کے تحت۶۰کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔










