سری نگر: پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے جمعرات کو کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت کی مدتِ کار ایک ’دھوکہ دہی کی داستان‘ رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سال۲۰۲۵ ’جھوٹوں کا سال‘ ثابت ہوا۔
ہندواڑہ کے ایم ایل اے نے حکومت پر ریاست کی تاریخ کی’سب سے ظالمانہ اور بے فائدہ‘ حکمرانی نافذ کرنے کا الزام عائد کیا۔
لون نے کہا کہ برسراقتدار جماعت کے انتخابی وعدے ایک سوچا سمجھا فریب تھے اور الزام لگایا کہ مفت۲۰۰یونٹ بجلی کے وعدے کے برعکس، بغیر میٹر والے علاقوں کے مکینوں پر۵۰فیصد ٹیرف اضافہ مسلط کر دیا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا’’۱۲گیس سلنڈروں کا وعدہ غائب ہو چکا ہے، اور ایک لاکھ ملازمتوں کا وعدہ ایک ’بڑے آؤٹ سورسنگ اسکینڈل‘میں بدل گیا ہے، جہاں مستقل سرکاری آسامیوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کر کے نوجوانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے‘‘۔
لون نے کہا کہ انتظامیہ نے طرزِ حکمرانی کو محض ایک ’ٹرانسفر انڈسٹری‘ تک محدود کر دیا ہے اور بنیادی خدمات کی بگڑتی حالت کو نظر انداز کیا ہے۔
ادھر، قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے آج نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر اقربا پروری کو ادارہ جاتی شکل دینے اور جموں و کشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کی امنگوں سے غداری کا الزام لگایا۔
سنیل شرما نے کہا کہ انتخابات کے دوران بڑے بڑے وعدوں کے باوجود، عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت اہل نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے دروازے کھولنے کے بجائے، حکومت نے مشکوک انتظامی فیصلوں کے ذریعے ریٹائرڈ افسران کو دوبارہ ملازمت دینے کا سہارا لیا ہے۔
بی جے پی لیڈر نے نشاندہی کی کہ حال ہی میں دوبارہ تعینات کیے گئے ایک ریٹائرڈ افسر—جو مبینہ طور پر ایک سینئر سیاسی رہنما کے قریبی رشتہ دار ہیںکو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ(جی اے ڈی) کے احکامات کے ذریعے دوبارہ سروس میں لیا گیا۔ ان کاکہنا تھا کہ اس سے قبل ایک اور ریٹائرڈ افسر کو بھی اسی طرح محکمۂ سیاحت میں تعینات کیا گیا تھا۔
ان اقدامات کو’نوجوان مخالف اور میرٹ مخالف‘ قرار دیتے ہوئے، قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ این سی حکومت نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے کو مذاق بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا’’عمر عبداللہ نے بے روزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بدلے جو دیا گیا وہ کھلی اقربا پروری ہے، جہاں آسامیاں رشتہ داروں اور منظورِ نظر افراد میں بانٹی جا رہی ہیں۔ عوامی اعتماد سے یہ غداری ناقابلِ قبول ہے، اور حکومت کو فوری طور پر ایسے غیر اخلاقی اور بدعنوان طریقوں کا خاتمہ کرنا چاہیے‘‘۔
این سی حکومت کے فلاحی دعوؤں کو نشانہ بناتے ہوئے، شرما نے سبسڈی والی بجلی کے وعدے کو گمراہ کن اور فریب پر مبنی قرار دیا۔انہوں نے کہا’’آخری بجٹ اجلاس میں وعدہ کی گئی۲۰۰ مفت بجلی یونٹس کہاں ہیں؟ وزیرِ اعظم کی سوریا اُرجا مفت بجلی یوجنا کے تحت بھی، جموں و کشمیر میں تقریباً آٹھ لاکھ رجسٹرڈ خاندان اب تک انتظار میں ہیں۔ یہ حکومت جھوٹی یقین دہانیوں اور بار بار کی ناکامیوں پر زندہ ہے‘‘۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے مزید کہا کہ این سی حکومت روزگار کی فراہمی، حکمرانی اور ترقی سمیت بڑے محاذوں پر مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا’’یہ حکومت بیانات اور توجہ ہٹانے والی کہانیوں میں مصروف ہے، جبکہ زمینی سطح پر ترقی جمود کا شکار ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے دور میں مکمل ہونے والے منصوبوں کو اب این سی وزرا محض تشہیر اور تصویری مواقع کے لیے پیش کر رہے ہیں‘‘۔
آسام کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے، سنیل شرما نے ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت پر اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’بی جے پی آسام میں مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کے لیے تیار ہے، اور اس کے بعد مغربی بنگال آئے گا۔ ہندوستان کے عوام دھوکے کے بجائے ترقی، شفافیت اور اچھی حکمرانی کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘‘










