نئی دہلی/۲۶دسمبر
ہندوستان نے بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے ایک اور فرد کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے ۔
جمعہ کو وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہے ۔
جیسوال نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک قتل، آتش زنی اور زمین پر قبضے کے تقریباً۲۹۰۰واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مطالبہ ہے کہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان کی بنگلہ دیش واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان وہاں آزاد، منصفانہ اور جامع انتخابات کا حامی ہے ۔ ساتھ ہی ہندوستان ایک مستحکم اور پرامن بنگلہ دیش چاہتا ہے اور اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت ہونی چاہیے ۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے دو افراد کو قتل کیا جا چکا ہے ۔ بنگلہ دیش میں ایک بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے ۔ اس کشیدہ ماحول میں رحمان کی وطن واپسی کو عوام کے لیے امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔
جیسوال نے کہا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں، عیسائیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے علاقے میمن سنگھ میں ایک اور ہندو دیپو داس کا قتل تشویشناک ہے اور ہندوستان اس کی پُرزور مذمت کرتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔
بنگلہ دیش میں ہندوستان مخالف بیانیے سے متعلق سوالات پر جیسوال نے کہا’’ہم نے بنگلہ دیش میں جھوٹے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے ۔ ایسا کوئی تاثر قائم کرنا کہ حالات کسی اور سمت جا رہے ہیں، غلط ہے اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش میں امن و امان اور سلامتی کی صورتحال وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے دو افراد کو قتل کیا جا چکا ہے ، جبکہ وہاں کی بڑی سیاسی جماعت ’عوامی لیگ‘کے انتخابات لڑنے پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔










