جموں و کشمیر کے وزیرِ کھیل ستیش شرما نے پیر کے روز سنتوش ٹرافی کیلئے ٹیم کے انتخاب کے معاملے میں معیاد بند غیر جانبدارانہ جانچ کی یقین دہانی کرائی۔
یہ یقین دہانی بی جے پی کے جموں خطے کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے پس منظر میں کی گئی ہے۔
جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل اس سے قبل ہی ان الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے اور ٹیم کے انتخاب کو میرٹ پر مبنی اور شفاف بتایا ہے۔
وزیر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا’’سنتوش ٹرافی کے لیے فٹ بال چیمپئن شپ کی ٹیم کے انتخاب سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تفصیلی اور غیر جانبدارانہ جانچ وقت کی پابندی کے ساتھ کی جائے گی۔میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ میرٹ پر مبنی انتخابی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد کے خلاف سخت نتائج اور مناسب تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘‘۔
سنتوش ٹرافی کے لیے ٹیم کے انتخاب کے عمل کو ’غیر قانونی اور امتیازی‘ قرار دیتے ہوئے، جے اینڈ کے بی جے پی کی ترجمان راجنی سیٹھی نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ جموں سے تعلق رکھنے والے تمام کھلاڑیوں کو مسترد کر دیا گیا اور صرف کشمیر کے کھلاڑیوں کو سنتوش ٹرافی ٹیم میں شامل کیا گیا۔
سیٹھی نے کہا’’…نیشنل کانفرنس کی حکومت متعصبانہ اور امتیازی پالیسیوں کے ذریعے مسلسل جموں کے نوجوانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہی ہے۔جموں کو ستیش شرما سے، جو خود جموں سے تعلق رکھتے ہیں، بہت زیادہ توقعات تھیں، لیکن انہوں نے بھی وہی امتیازی رویہ اختیار کیا‘‘۔
اسی دن ردعمل دیتے ہوئے اسپورٹس کونسل کے ایک عہدیدار نے کہا’’سنتوش ٹرافی کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب ایک ایسے عمل کے ذریعے کیا گیا جو ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ جموں و کشمیر فٹ بال ایسوسی ایشن میں انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اس کی عدم موجودگی میں، اسپورٹس کونسل گزشتہ دو برسوں سے آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن کے اشتراک سے ٹیمیں تشکیل دے رہی ہے اور اس نے میرٹ پر مبنی اور شفاف انتخاب کو یقینی بنایا ہے‘‘۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹرائلز کے بعد ۵۱ کھلاڑیوں میں سے ۳۲کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جن میں جموں خطے کے آٹھ کھلاڑی بھی شامل تھے، اور انہیں ۲۱ نومبر سے جموں میں منعقد ہونے والے رہائشی کوچنگ کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا‘‘۔
عہدیدار نے کہا کہ یہ کیمپ ۱۲ دسمبر تک جاری رہا اور آخرکار سلیکشن کمیٹی نے ۲۳ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا، جن میں جموں کے چار کھلاڑی بھی شامل ہیں، جو سنتوش ٹرافی میں جموں و کشمیر کی نمائندگی کریں گے۔ عہدیدار نے مزید بتایا کہ جموں کا ایک کھلاڑی امتحان کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں ہو سکا، جبکہ دوسرا کھلاڑی آنے والے دنوں میں ٹیم سے جڑ رہا ہے۔(ایجنسیاں)










