جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ حکومت نے ایک فیصلہ کن پالیسی تبدیلی کی ہے، جس کے تحت اب صرف دہشت گردی کے متاثرین کے خاندانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا، جبکہ دہشت گردی سے جڑے افراد کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ایل جی سنہا نے کہا’’دہشت گردی کے متاثرین کو انصاف اور نوکریاں ملیں گی، اور دہشت گردوں کو گولیاں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر جموں ڈویڑن کے دہشت گردی کے متاثرین کے ۴۱ قریبی رشتہ داروں کو تقرری نامے سونپ رہے تھے۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے حالیہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایل جی نے کہا’’دہشت گردی کے آغاز سے۲۰۱۹ تک۴۱ہزار۹۴۹ عام شہری مارے گئے۔ ان اموات کیلئے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور ان کا پورا نیٹ ورک ذمہ دار تھا‘‘۔
سنہا نے کہا’’اب انصاف صحیح لوگوں تک پہنچے گا۔ اب دہشت گردی کے متاثرین کے رشتہ داروں کو نوکریاں مل رہی ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت دہشت گردوں کے رشتہ داروں کو نوکری نہیں دلا سکتی۔ میں اْن لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں جو ابھی بھی رنگین چشمے لگا کر دیکھتے ہیں کہ دہشت گردی کا دور ختم ہو چکا ہے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ غیر فعال ہورہے دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ عناصر ملک کے خلاف غلط معلومات یا منفی بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور خبردار کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف ملک کے قائم شدہ قانونی ڈھانچے کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایل جی نے کہا’’غیر فعال ہورہے دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ عناصر ایسے ہیں جو ملک کے خلاف غلط معلومات یا منفی بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسے عناصر کے خلاف ملک کے قائم شدہ قانونی ڈھانچے کے مطابق سخت کارروائی کریں گے‘‘۔
سنہانے مزید کہا کہ جو لوگ علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور قومی وحدت کو خطرہ پہنچا رہے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ جموں و کشمیر میں ترقی کے ‘مہایگیہ’ میں تمام طبقات ایثار کے ساتھ اپنا حصہ ڈالیں۔
اس موقع پر، ایل جی سنہا نے نصیب سنگھ اور اس کے خاندان کی کہانی بیان کی۔نصیب سنگھ کے والد دھرم سنگھ اور راجوری ضلع کے کوٹرنکا کے چار دیگر افراد کو ۲۸ جون ۲۰۰۵ کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ایل جی نے کہا’’دو دہائیوں تک نصیب سنگھ اور اس کے خاندان کو مصیبت، مسلسل خوف اور عدم تحفظ میں جینا پڑا۔ ان کی زندگی کے سیاہ دن ختم ہو چکے ہیں۔ یہ خاندان کے لیے امید اور خوابوں کی ایک نئی صبح ہے‘‘۔
اختر حسین، جو ریاسی کے رہائشی تھے، کو۱۳ جولائی ۲۰۰۵ کو دہشت گردوں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ ان کی بیوی اور بچوں نے دو دہائیوں تک بے پناہ مشکلات برداشت کیں۔ اس نے خاندان پر ایک گہرا زخم چھوڑ دیا تھا۔
۱۵نومبر ۲۰۰۴ کو ایس پی او سنجیت کمار کو اپنے دوست کے ساتھ بلاں ٹنڈوا، کشتواڑ میں دو دہشت گردوں نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ اپنے پڑوسی کی شادی کی تیاری کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ان خاندانوں نے ناقابلِ بیان غم کا بوجھ اٹھایا۔ اب یہ نئی شروعات انہیں وقار کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع دے گی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی اپیل کی کہ جموں کشمیر میں ترقی کے مہایگیہ میں تمام طبقات ایثار کے ساتھ اپنا حصہ ڈالیں۔
ماضی کے مقابلے آج کے جموں و کشمیر کی صورتحال بیان کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پہلے ’’بڑی تعداد میں نوکریاں اْن لوگوں کو دی جاتی تھیں جو دہشت گردی اور علیحدگی پسندی سے جڑے تھے، لیکن اب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں صورتحال بدل گئی ہے‘‘۔
سنہا نے مزید کہا’’پہلے خطے پر حکمرانی کرنے والے لوگ عارضی امن کے بدلے سمجھوتے کرتے تھے۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے تحت اس انتظام کو بدلنے کی کوشش کی گئی‘‘۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب انصاف صحیح لوگوں تک پہنچے گا۔
ایل جی نے یہ بھی کہا کہ پرانے کیسز دوبارہ کھولے جائیں گے اور مجرم چاہے سرحد کے اِس طرف ہوں یا اْس طرف، انہیں سزا دی جائے گی۔
سنہا نے کہا’’صرف موجودہ متاثرین کے کیس ہی نہیں بلکہ پرانے کیس بھی دوبارہ کھولے جائیں گے۔ کچھ دوبارہ کھولے بھی جا چکے ہیں۔ چاہے دہشت گرد سرحد کے اِس طرف ہوں یا اْس طرف، وہ اپنے بھیانک جرائم کی سنگین سزا بھگتیں گے‘‘۔










