حیدرآباد 26نومبر(یواین آئی)کرے گٹہ یہ وہ علاقہ تھا جہاں کبھی فورسس کے بوٹوں کی آواز سے دل دہل جاتے تھے ، جہاں ماونواازوں اور گرے ہاؤنڈس کے درمیان شدید کشیدگی رہتی تھی۔ اس علاقہ میں جہاں سرخ جھنڈے گڑے ہوئے تھے اور خون کی ندیاں بہی تھیں، اب عام حالات لوٹ آئے ہیں۔
گولیوں کی آواز سے گونجنے والا یہ علاقہ اب سیکیورٹی فورسس کے زیرانتظام ہے ۔ پُر تشدد کارروائیوں سے سرخ ہونے والے کرے گٹہ میں کل ہمیں ایک پُر امن دیہاتی ماحول نظر آئے گا کیونکہ اس علاقہ سے ماؤ نوازوں کے سرخ جھنڈے غائب ہیں۔ سیکیورٹی فورسس کی مکمل مساعی کے بعد اب یہ علاقہ ماؤ نوازوں سے پاک قرار دیا گیا ہے ۔
سیکیورٹی فورسس اور ماؤ نوازوں کے درمیان بالا دستی کی جنگ کا مرکز رہنے والے کرے گٹہ پر، سیکیورٹی فورسس نے بالآخر فتح حاصل کر لی ہے اور بیس کیمپ قائم کر دیئے ہیں۔ تلنگانہ کے بھدردری کوتہ گوڑم اور چھتیس گڑھ کے سکما اضلاع کی سرحد پر واقع کرے گٹہ کے جنگلات ماؤ نوازوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ تھے ۔ جب ہتھیار ڈالنے کی ڈیڈ لائن دی گئی اور فورسس نے آپریشن کگار کے تحت حملہ کیا، تو انہی پہاڑیوں نے ماؤ نوازوں کو پناہ دی۔
پناہ لینے کے ساتھ ساتھ یہیں سے ماونوازوں میں نئی بھرتیوں کی بھی خبریں تھیں، جس کے بعد فورسس نے آپریشن بلیک فارسٹ کے تحت کرے گٹہ کو نشانہ بنایا۔ سی آر پی ایف اور چھتیس گڑھ پولیس نے مشترکہ طور پر دو ماہ تک پورے علاقہ کی تلاشی لی۔ دس ہزار سیکیورٹی فورسس نے ہیلی کاپٹروں اور ڈرونس کی مدد سے اس علاقہ کو گھیر لیا تاکہ ماؤ نواز فرار نہ ہو سکیں۔ شدید فائرنگ کی گئی، ماؤ نوازوں کے بنکرس مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے ، اور درجنوں ماؤ نواز مارے گئے ۔
خونریزی کے ان پے در پے واقعات کو دیکھنے والے کرے گٹہ میں اب لڑائی کے بعد امن قائم ہو گیا ہے ۔ اس پر بالآخر پولیس کا پرچم لہرا دیا گیا ہے ۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کرے گٹہ پر سی آر پی ایف کا بیس کیمپ قائم ہو چکا ہے ۔ سی آر پی ایف نے اس علاقہ کے قبائلیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ترقی اور صحت کیمپوں سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کریں گے ۔ سی آر پی ایف کا پہلا نشانہ کرے گٹہ کو مقامی افرادکے لئے سب سے محفوظ مقام بنانا ہے ۔
فورسس کا کہنا ہے کہ جلد ہی کرے گٹہ کی طرف سڑک بنا کر وہاں بھی کیمپ قائم کیا جائے گا اور مقامی افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا کر ترقی کے لئے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔









