واشنگٹن، 22 نومبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی ملاقات ہوئی، اس دوران مشترکہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ظہران ممدانی سے اچھی اور مؤثر ملاقات رہی، امید ہے ممدانی نیویارک میں معاملات بہتر انداز میں چلائیں گے اور ہم ان کی معاونت کریں گے ، ہر ممکن مدد کریں گے تاکہ یہ لوگوں کی امیدوں پر پورا اترسکیں۔
ٹرمپ نے کہا زہران ممدانی نیویارک کے معاملات جتنے بہتر انداز میں چلائیں گے میں اتنا ہی خوش ہوں گا۔
صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کی گرفتار ی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ زہران ممدانی نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے یا نہیں، اس پر بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ زہران ممدانی کے فیصلے قدامت پسندوں کے لیے حیرت کا باعث بن سکتے ہیں، امید ہے ممدانی کچھ قدامت پسندوں کو حیران کردیں گے ۔
ٹرمپ نے امن اور تنازعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج مشرقی وسطیٰ میں اُن کی کوششوں کی وجہ سے امن قائم ہوا، ٹرمپ نے کہاکہ انہوں نے دنیا میں 8 امن معاہدے کرائے اوران معاہدوں میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کا خاتمہ بھی شامل تھا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے حامیوں کے زہران ممدانی کی حمایت کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ہم دونوں کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے جنگوں کا خاتمہ۔
اس موقع پر ٹرمپ کے ساتھ موجود زہران ممدانی نے نام لیے بغیر امریکہ کی اسرائیل کو دی جانے والی فنڈنگ کی پالیسی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حامی اور ٹرمپ کے حامی اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک کی فنڈنگ بند ہونی چاہیے ۔
صحافی نے زہران ممدانی سے سوال کیا کہ ‘کیا آپ سمجھتے ہیں صدر ٹرمپ فاشسٹ ہیں’؟ صحافی کے سوال پر ممدانی کی وضاحت سے پہلے ہی صدرٹرمپ نے کہاکہ ممدانی کے فاشسٹ کہنے سے انہیں برا نہیں لگتا۔
امریکی صدر نے ممدانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ فاشسٹ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وضاحت کرنے سے زیادہ یہ کہناآسان ہے اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زہران ممدانی نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں غزہ میں ہونے والی نسل کشی پر بھی بات کی۔








