وادیٔ کشمیر میں بجلی نہ صرف ایک بنیادی ضرورت ہے بلکہ سردیوں کے لمبے اور سنگین موسم میں یہ زندگی کی ضمانت بن جاتی ہے۔ ایسے میں کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) کی جانب سے پیک اوقات میں ۲۰ فیصد اضافی سرچارج عائد کرنے کی تجویز نے عوامی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
سیاسی جماعتوں، تاجر انجمنوں اور عام شہریوں کے ردعمل سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ صرف ایک تکنیکی یا انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ عوامی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہونے والا قدم ہے۔ اس لیے یہ سوال بالکل فطری ہے کہ کیا حکومت سردیوں کی اس سختی میں عوام کو اضافی مالی بوجھ کی دلدل میں دھکیلنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
کے پی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تصدیق کے مطابق یہ تجویز ’ٹائم آف ڈے ٹیرف‘ پالیسی کا حصہ ہے، جو اصولی طور پر بجلی کے استعمال کو منظم کرنے کی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں یہ پالیسی رائج ہے، مگر کشمیر جیسے خطے میں جہاں سردیاں زندگی کی رفتار تک محدود کر دیتی ہیں، اس طرح کی حکمت عملی کا بیمحابا اطلاق عوامی مشکلات میں بیپناہ اضافہ کر سکتا ہے۔ صبح اور شام وہی اوقات ہیں جب سردی اپنی شدت پر ہوتی ہے، اور عوام کو گرمائش برقرار رکھنے کے لیے بجلی پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جب بجلی کی فراہمی کم از کم قیمت پر زیادہ سے زیادہ دستیاب ہونی چاہیے…نہ کہ اضافی چارجز کے ساتھ۔
سیاسی جماعتیں بھی یک زبان ہو کر اسی حقیقت کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے نہ صرف اس تجویز کو عوام دشمن قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ سردیوں میں بجلی کوئی’لکڑری‘ نہیں، روزمرہ زندگی کا مسئلہ ہے۔ ان کا یہ بیان زمینی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ایک عام کشمیری کے لیے موسمِ سرما محض تکلیف کا نام نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ ایسے میں ۲۰ فیصد اضافی چارج کسی ‘‘اصلاحی پالیسی’’ کے بجائے ناانصافی محسوس ہوتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس بھی اس تجویز سے خود کو دور کرتی نظر آتی ہے۔ تنویر صادق نے واضح لفظوں میں کہا کہ عمر عبداللہ کی حکومت اس طرح کے غیر منصفانہ بوجھ کی اجازت نہیں دے گی۔ یہ بیان سیاسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت بھی ہے کیونکہ وادی کے عوام کا عمومی گلہ یہی رہا ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھانے کے فیصلے اکثر عوامی ضروریات سے زیادہ حکومتی وصولیوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری کا ردعمل بھی اسی تشویش کی عملی توسیع ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ پہلے ہی معاشی بحران کا شکار عوام‘بالخصوص سیاحت اور باغبانی پر انحصار کرنے والے خاندان‘مزید دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس برس سیاحت میں کمی اور موسم کی شدت نے باغبانی کو نقصان پہنچایا، ایسے میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ بخاری کی اپیل کہ حکومت ’’رحم دلانہ‘‘ رویہ اختیار کرے، دراصل عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے۔
یہ تمام مؤقف ایک ایسی سچائی پر جمع ہو جاتے ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا…کشمیر میں بجلی کا بحران ہمیشہ سے سیاسی بھی رہا ہے، سماجی بھی اور انتظامی بھی۔ وادی کے شہری پہلے ہی سردیوں میں کٹوتیوں، کم وولٹیج اور بے وقت سپلائی کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے میں ناکام رہتی ہے تو قیمت بڑھانے کا جواز تلاش کرنا نہ صرف کمزور دلیل ہے بلکہ عوامی استحصال کے مترادف ہے۔
اس سارے پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا واقعی ۲۰ فیصد سرچارج سے بجلی کے نظام میں کوئی بہتری آئے گی؟ یا یہ محض صارفین کی جیبوں سے اضافی وسائل نکالنے کا طریقہ ہے؟ اگر حکومت یا محکمہ بجلی اس سے حاصل ہونے والی رقم کو نظام کی بہتری پر خرچ کرنے کا ٹھوس منصوبہ رکھتے ہیں تو عوام کو اس سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے شفافیت کا یہ پہلو ہمیشہ سے کمزور رہا ہے، اور یہی اعتماد کے بحران کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔
ایک اور اہم پہلو جو زیر بحث رہتا ہے وہ یہ ہے کہ کشمیر جیسے خطے میں بجلی کے نرخوں کے تعین کے لیے ایک علیحدہ پالیسی ہونی چاہیے۔ سردیوں کی شدت، ہیٹنگ کی ضرورت، روزگار کے محدود ذرائع اور جغرافیائی مشکلات کے باعث وادی کے حالات ملک کے دیگر علاقوں سے یکسر مختلف ہیں۔ لہٰذا ’ایک ہی فارمولا سب پر لاگو ہوگا‘ جیسی سوچ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ برقرار ہے، مگر اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ بجلی کی فراہمی مستحکم اور مسلسل ہو۔ جب صارفین کو بجلی ہی ٹھیک طرح نہ ملے، تو نرخ بڑھانا پہلے سے پریشان شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ محکمے کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے اپنے نظام کو درست کرے، اس کے بعد ہی معاشی بوجھ عوام پر منتقل کرنے پر غور کرے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بجلی کا مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے سماج کا ہے۔ عدم شفافیت، بجلی چوری، ناقص انفراسٹرکچر، غلط میٹرنگ، اور بلوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل حل کیے بغیر ٹیرف میں اضافہ محض مسئلہ مزید گمبھیر بنا دے گا۔
سرچارج کی تجویز ابھی منظوری سے دور ہے، مگر اس نے پورے کشمیر میں ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے‘کیا ہماری حکومتیں عوام کی ضروریات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ یا فیصلے کسی اور بنیاد پر کیے جاتے ہیں؟
وادی ٔ کشمیر میں بجلی کوئی سہولت نہیں، زندگی کا لازمی جز ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام دوست پالیسیوں کی دعوے دار ہے، تو پہلے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرے‘نہ کہ سردیوں کی شدت میں اْن کی مشکلات میں اضافہ کرے۔





