بینگلورو، 21 نومبر (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے ریاستی کانگریس میں قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے ستیش جارکیہولی کے گھر پر حال ہی میں ہونے والے عشائیہ اور کئی ارکان اسمبلی کے دہلی دورے کے پیچھے کسی بھی سیاسی مقصد سے صاف انکار کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت نے اپنے ڈھائی برس کی مدت مکمل کر لی ہے ۔
ڈاکٹر پرمیشور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عشائیہ صرف محکمہ جاتی امور کے سلسلے میں تھا۔ یہ عشائیہ المٹی ڈیم منصوبے کے لیے ضروری بجٹ مختص کرنے کے سلسلے میں رکھا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ستیش جارکیہولی کے گھر پر عشائیہ میں شرکت کی۔ کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔ ہم نے اپنے محکموں پر گفتگو کی، کیونکہ المٹی کی منظوری کے باعث کابینہ نے کہا تھا کہ ڈیم کو ترجیح دینے کے لیے باقی محکموں کو بھی تیاری کرنی ہوگی، ہم نے اسی معاملے پر گفتگو کی۔ کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر پرمیشور نے حال ہی میں دس سے زائد ارکان اسمبلی اور کونسل ممبران کے دہلی جانے کے بارے میں کہا کہ یہ دورے کسی سیاسی ایجنڈے سے وابستہ نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی سیاسی وجہ وابستہ نہیں ہے ۔ ہر رکن اسمبلی نے کہا ہے کہ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر نہیں گئے ۔ آپ اسے سیاسی کیوں سمجھ رہے ہیں؟ ریاست میں کوئی اتھل پتھل نہیں ہو رہی ہے ۔
انہوں نے دیگر لیڈروں کے بیانات پر بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ میں یہاں کسی اور کے بیان پر تبصرہ کرنے کے لیے نہیں ہوں۔ ہم سب کی اپنی رائے اور سیاسی حالات کو دیکھنے کا اپنا انداز ہے ۔ میرے تبصرے تب آئیں گے ، جب اس کی ضرورت ہوگی۔ ڈاکٹر پرمیشور کی یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ، جب ریاست میں ممکنہ رد و بدل اور قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں ریاست میں سیاسی تبدیلی کے اشارے بھی دے رہی ہیں۔ وزیر داخلہ کی یہ وضاحت حکومت کے ساڑھے دو سال سے زیادہ مکمل ہونے پر قیادت کی تبدیلی کی جاری افواہوں کے درمیان سامنے آئی ہے ۔








