جے پور، 18 نومبر (یو این آئی) راجستھان کے وزیر زراعت ڈاکٹر کروڑی لال مینا نے کسانوں کے مطالبات کے حل کا یقین دلایا ہے ۔
ڈاکٹر مینا نے پیر کی دیر رات رکن پارلیمنٹ راہل کسواں کی قیادت میں ضلع چورو کے کسانوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی، جس میں کسانوں کے بیمہ کلیمز، جل جیون مشن کی پیشرفت، کھاد کی تقسیم اور ایم ایس پی ٹوکن سے متعلق اہم مسائل پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ اجلاس دوستانہ ماحول میں ہوا، جس میں کسانوں کی تمام اہم مطالبات کے پائیدارحل پر اتفاق ہوا۔
ڈاکٹر مینا نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ زیر التوا فصل بیمہ کلیمز کے تصفیہ کے لیے وزیراعلیٰ کی اجازت کے بعد ایس آر جی سی کا اجلاس جلد بلایا جائے گا، تاکہ کسانوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں یوریا اور ڈی اے پی کا کافی اسٹاک موجود ہے اور ضلع چورو کے سوجان گڑھ، رتن گڑھ اور بیداسر علاقوں میں کھاد کی فراہمی ضلع ناگور سے کی جائے گی۔
اجلاس میں وِدھان سبھا رکن تارانگر نریندر بڈانیا نے بتایا کہ ضلع چورو کے کسانوں کا 2021 میں تقریباً 500 کروڑ روپے کا بیمہ کلیم طویل عرصے سے زیر التوا تھا، جس کے لیے 2021 سے 2025 تک مسلسل جدوجہد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر زراعت کے ساتھ یہ ملاقات انتہائی سود مند رہی اور کسانوں کے مطالبات کو انتہائی سنجیدگی سے سنا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر کسواں کی قیادت میں کسانوں نے اپنے مطالبات کے لیے کل ضلع چورو کے سادُل پور سے جے پور کے لیے ‘کسان ایکتا ٹریکٹر مارچ’ شروع کی تھی، جسے پولیس نے روک دیا تھا اور اس کے بعد حکومت نے کسانوں کو ان کے مسائل پر بات چیت کے لیے جے پور بلایا تھا۔







