سرینگر/۱۸نومبر
سی بی آئی کی تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کے کانسٹیبل خورشید احمد چوہان پر جے آئی سی کپوارہ میں ساتھی اہلکاروں نے حراست کے دوران شدید تشدد کیا، اور اس کے جسم پر پائے گئے زخم،بشمول فریکچر’بے رحمانہ مارپیٹ یا اذیت‘ کے نتیجے میں ہوئے، جن کا مقصد ’اعترافِ جرم کرانا‘ تھا۔
سی بی آئی نے اپنی رپورٹ سرینگر کی خصوصی عدالت میں جمع کراتے ہوئے ڈپٹی ایس پی اعجاز احمد، سب انسپکٹر ریاض احمد میر، ایس پی او جہانگیر احمد بیگ اور دیگر پانچ پولیس اہلکار‘تنویراحمد مَلّا، محمد یونس خان، شاکر احمد، الطاف حسین بھٹ اور شاہنواز احمد دیدڑ‘کے خلاف حراستی اذیت کے ذریعے اعترافِ جرم لینے کے الزام میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔
تحقیقات میں سب انسپکٹر منظور احمد شیخ کا بیان مرکزی ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔ وہ اس وقت پولیس پوسٹ درگمولہ میں تعینات تھے۔ انہوں نے چوہان کی حالت کا لرزہ خیز احوال بیان کیا، جب وہ۲۳؍اور ۲۵فروری۲۰۲۳ کو جے آئی سی کا دورہ کر کے اس کی خیریت معلوم کرنے وہاں پہنچے تھے۔ چوہان کو ۲۰ فروری کو اس وقت کے ایس ایس پی کپوارہ کی دستخط شدہ تحریری ہدایت پر بارہمولہ سے جے آئی سی لایا گیا تھا۔
۲۵ فروری کی دوپہر جب شیخ کو ڈپٹی ایس پی اعجاز احمد کے دفتر میں چوہان کو دکھایا گیا تو اس کی حالت بری طرح بگڑی ہوئی تھی۔ اس کا زیادہ وزن ایک پاؤں پر تھا، دوسرے پاؤں کی انگلی بس زمین کو چھو رہی تھی، ایک ہاتھ مسلسل کانپ رہا تھا‘جیسے اس کے جسم پر بولتے زخم موجود ہوں۔
بیان کے مطابق چوہان کو جے آئی سی کپوارہ میں موجود آٹھ اہلکاروں نے تقریباً چھ روز (۲۰ سے ۲۶ فروری) تک بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا تاکہ اسے منشیات کیس میں جرم قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
جے آئی سی کپوارہ ایک انتہائی محفوظ و حساس یونٹ ہے جہاں دہشت گردی، نارکو ٹیررزم اور منشیات کے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔
ڈپٹی ایس پی اعجاز احمد اور ایس آئی ریاض احمد نے شیخ کو بتایا تھا کہ چوہان اور دو دیگر افراد منشیات سے جڑے کیسوں میں ملوث ہیں اور انہیں ’’اس معاملے سے دور رہنے‘‘ کا مشورہ بھی دیا۔
چند روز بعد موصول ہونے والی طبی رپورٹس میں چوہان کے پاؤں کے فریکچر، جسم پر شدید نیل، زخم اور چوٹیں رپورٹ ہوئیں۔ یہ سب ’’ٹھوس جسمانی ضربات‘‘ کے نتیجے میں ہوئی تھیں، اور ان کی نوعیت الزامات سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی تھی۔
سی بی آئی نے مختلف اسپتالوں‘سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کپوارہ، جی ایم سی بارہمولہ، ایس کے آئی ایم ایس صورہ، اور بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ‘کی میڈیکل رپورٹس کا حوالہ دیا ہے، جن میں چوہان کے جسم پر بے شمار زخم درج ہیں، خاص طور پر بائیں پاؤں کے فریکچر سمیت۔
ڈسچارج سمری میں بھی چشم کشا تفصیلات درج تھیں:دونوں آنکھوں میں سوجن، ہاتھوں اور پنڈلیوں پر خراشیں، دونوں پاؤں پر خون اور سوجن، اور کولہوں اور رانوں پر گہرے نیل۔
سی بی آئی نے جے آئی سی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی، جس میں چوہان کو کوریڈور میں لنگڑاتے ہوئے چلتا دیکھا جا سکتا ہے۔
تحقیقات کا اہم حصہ اْس میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ہے جو دہلی کے آر ایم ایل اسپتال اور لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج کے ماہرین پر مشتمل تھا۔ اس نے اپنی فرانزک رائے میں واضح کہا کہ چوٹیں ’’خود ساختہ‘‘ نہیں ہو سکتیں اور یہ ’’غیر معمولی جسمانی تشدد‘‘ کی نشان دہی کرتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا’’کولہوں، رانوں کے اوپری حصے، پاؤں اور ہتھیلیوں پر موجود چوٹیں، ساتھ ہی مقعد میں پائی گئی رگڑ اور بیرونی مادّہ، حراستی تشدد کی واضح علامتیں ہیں‘‘۔بورڈ نے یہ بھی کہا کہ نیل اور زخم دو سے تین روز پرانے تھے، جو چوہان کی جے آئی سی کپوارہ میں موجودگی کی مدت سے میل کھاتے ہیں۔
البتہ چوہان کے اس الزام کی توثیق نہیں ہو سکی کہ اس کے جسم کے نازک حصوں پر بھی اہلکاروں نے چوٹیں پہنچائیں۔ رپورٹ کے مطابق اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ’’یہ چوٹیں خود ہی لگائی گئی ہوں‘‘۔
اسی طرح، اس کے اس دعوے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ ۲۶ فروری کی صبح اسے پیٹ پر بھی مارا گیا تھا۔
سی بی آئی نے کہا’’ریکارڈ پر ایسا کوئی قابلِ اعتبار، قابلِ بھروسہ اور قابلِ تعزیر ثبوت موجود نہیں کہ ملزمان نے ۲۶ فروری ۲۰۲۳ کو چوہان کے نجی اعضا پر چوٹ پہنچائی ہو‘‘۔(ایجنسیاں) ویب ڈیسک










