جمعرات, جولائی 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

قرآن کے نام پر سیاست: حرمت کی سرحدوں سے کھیل

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-11
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر ایسا منظر سامنے آیا ہے جس نے باشعور طبقے کو حیرت میں ڈال دیا۔ سیاست دانوں کے بیانات اور جوابی بیانات کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب ان بیانات میں مذہبی حوالہ جات اور مقدس کتب کو شامل کر دیا جائے تو یہ محض سیاسی بحث نہیں رہتی، بلکہ ایک انتہائی حساس اور خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے۔
حالیہ تنازعہ، جس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، بی جے پی کے رہنما سنیل شرما اور پی ڈی پی کے وحید الرحمان پرا کے بیانات شامل ہیں، اسی رجحان کی تازہ مثال ہے۔
یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی فائدے اور وقتی مفاد کے لیے ایسی مقدس کتاب کو بیچ میں لایا گیا جو مسلمانوں کے نزدیک ایمان کا بنیادی ستون ہے۔ قرآن مجید، جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے ہدایت، علم، روشنی اور انصاف کا سرچشمہ قرار دیا ہے، اس کا مقصد محض قسم کھانا یا سیاسی صفائی پیش کرنا نہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو اخلاق، عدل اور حق گوئی کا درس دیتی ہے۔ اسے سیاست کے کھیل کا آلہ بنانا نہ صرف اس کی حرمت کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی سطح پر بھی ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔
سیاست دانوں کا کام ریاستی امور چلانا، عوامی مسائل حل کرنا اور ترقی کے راستے کھولنا ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ مذہب یا مقدس علامتوں کو سیاسی بحث میں شامل کرتے ہیں تو وہ دراصل اپنے اخلاقی جواز کو کمزور کرتے ہیں۔ عمر عبداللہ اور سنیل شرما کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ لفظی جنگ نے سیاست کے اس پہلو کو عیاں کیا کہ یہاں ذاتی مفاد کی خاطر کسی حد تک بھی جایا جا سکتا ہے۔ سنیل شرما نے وزیر اعلیٰ کو چیلنج دیا کہ وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں، اور جواب میں عمر عبداللہ نے واقعی ایسا کر دکھایا۔ اس سے بحث کا رخ اچانک مذہب اور ایمان کی طرف مڑ گیا … ایک ایسا رخ جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قرآن پر قسم کھانا کسی عدالت یا روحانی عہد میں ایک گہرا، ذاتی اور ایمانی عمل ہے۔ اسے عوامی سیاست کے اسٹیج پر لے آنا، کیمروں کے سامنے دکھاوا بنانا، دراصل مذہب کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ سیاست میں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ عوام کے شعور، میڈیا کے سوالات، اور جمہوری احتساب کے نظام سے ہونا چاہیے ‘ نہ کہ مقدس کتاب کے نام پر قسموں سے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں حالیہ برسوں میں اس طرح کے مذہبی حوالوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ چاہے وہ مذہبی شناخت کے نام پر ووٹ مانگنا ہو، یا کسی مقدس ہستی یا کتاب کا حوالہ دے کر سیاسی مخالف کو نیچا دکھانا‘ یہ سب جمہوری اخلاقیات کے منافی ہیں۔ جموںکشمیرکی سیاست ہمیشہ سے حساس رہی ہے، کیونکہ یہاں مذہب، قومیت اور شناخت کے مسائل پہلے ہی پیچیدہ ہیں۔ ایسے میں اگر سیاستدان خود مذہبی علامتوں کو بیچ میں لائیں تو یہ آگ میں گھی ڈالنے کے مترادف ہے۔
بی جے پی کے رہنما سنیل شرما نے اگر واقعی وزیر اعلیٰ کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کا چیلنج دیا تو یہ غیر ذمے دارانہ طرزِ عمل تھا۔ سیاست میں الزامات لگانا، وضاحت مانگنا یا سوال اٹھانا جمہوری حق ہے، لیکن کسی مذہب کی مقدس کتاب کو بطور دلیل پیش کرنا عقل اور اخلاق دونوں کے خلاف ہے۔ اسی طرح عمر عبداللہ کا جواب بھی سیاسی بلوغت سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ ایک وزیر اعلیٰ سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ عوامی پلیٹ فارم پر مذہبی حلف اٹھائیں۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ سیاسی الزام کا سیاسی جواب دیتے، ثبوت اور دلائل کے ساتھ ‘نہ کہ ایک جذباتی ردعمل سے معاملے کو مزید بگاڑتے۔
پی ڈی پی کے رہنما وحید الرحمان پرا اور نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار کے درمیان ہونے والی بحث نے اس معاملے کو مزید گندا کر دیا۔ دونوں جانب سے جوابی الزامات، طنز اور مذہبی حوالوں کی تکرار نے سیاست کے اس مکالمے کو اخلاقی پستی میں بدل دیا۔ ایسے میں یہ کہنا بجا ہے کہ سیاست میں مقدس کتابوں کو بیچ میں لانے کا عمل محض وقتی سرخیوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن معاشرے کے لیے یہ زہرِ قاتل ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک اجتماعی اخلاقی ضابطہ طے کریں … ایسا ضابطہ جو مذہب، فرقہ یا مقدس کتابوں کے استعمال پر واضح پابندی لگائے۔ جمہوریت کا حسن تنقید میں ہے، لیکن تنقید کا معیار اخلاق سے گر جائے تو نظامِ سیاست بھی بے جان ہو جاتا ہے۔ مذہب کا احترام صرف عبادت گاہوں یا ذاتی زندگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ سیاست کے ہر عمل میں جھلکنا چاہیے …اس معنی میں کہ سیاست دان اپنے قول و فعل میں عدل، سچائی اور شرافت کو ملحوظ رکھیں، نہ کہ مذہبی علامتوں کا سیاسی استعمال کریں۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ عوام اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ وہ سیاست دانوں کے الفاظ کے پیچھے نیت کو بھانپنے لگے ہیں۔ اگر کوئی سیاست دان مذہب کو سیاسی ہتھیار بناتا ہے تو لوگ اس کے مقصد کو بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔ سیاست میں پختگی کا مطلب یہی ہے کہ بحث کو اصولوں، پالیسیوں اور عوامی مفاد تک محدود رکھا جائے۔ مذہبی جذبات کو چھیڑنے سے وقتی تاثر پیدا ہو سکتا ہے، مگر طویل مدت میں اس سے نقصان صرف سیاست کو نہیں، معاشرتی ہم آہنگی کو بھی ہوتا ہے۔
عمر عبداللہ ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے بیانات سے گریز کریں گے جو مذہب کو سیاست میں کھینچ لاتے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی کے رہنماؤں کو بھی اس روش پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ اگر ہر الزام کا جواب قرآن یا کسی اور مذہبی حوالہ سے دیا جانے لگا تو سیاست کا معیار زمین بوس ہو جائے گا۔ سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے اپنی گفتگو میں شائستگی اور سنجیدگی کو فروغ دیں۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ قرآن ایمان کی کتاب ہے، سیاست کا ہتھیار نہیں۔ اسے قسموں، جوابی بیانات یا سیاسی صفائیوں میں استعمال کرنا مذہب کی روح کے خلاف ہے۔ سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام انہیں اسی وقت سنجیدگی سے لیں گے جب وہ الفاظ نہیں، عمل سے سچائی ثابت کریں گے۔ قرآن کو درمیان میں لانے کے بجائے اگر وہ اپنے کردار اور کارکردگی سے سچ بولیں تو یہی سب سے بڑی قسم ہوگی ‘ خاموش مگر معتبر۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ماں سیتا کے آشیرواد سے ہی بہار ایک ترقی یافتہ ریاست بنے گا: مودی

Next Post

لکشہ سین کی بی ڈبلیو ایف ورلڈ ٹور فائنلز میں اپنی جگہ یقینی بنانے پر نظر

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
Next Post

لکشہ سین کی بی ڈبلیو ایف ورلڈ ٹور فائنلز میں اپنی جگہ یقینی بنانے پر نظر

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.