’نا ممکن ممکن بن گیا‘ وہ جگہیں جہاں کبھی ہنگامہ آرائی ہوتی تھی اب ترقی، تعلیم اور نئی امید کے آثار نظر آتے ہیں‘
سرینگر/۵نومبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کا موجودہ ماحول برسوں کی قربانیوں اور ہندوستان کے روحانی رہنماؤں کی سکھائی گئی ہمدردی اور بات چیت کی اقدار پر عمل کرنے سے ممکن ہوا ہے ۔
سنہا نے کہا کہ پائیدار امن، باہمی احترام اور وقار کے ساتھ جینے کی صلاحیت سے پروان چڑھتا ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں ’جموں و کشمیر میں امن، عوام اور امکانات‘پر منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔
ایل جی نے کہا’’جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کا موجودہ ماحول برسوں کی قربانیوں اور ہندوستان کے روحانی رہنماؤں کی سکھائی گئی ہمدردی اور بات چیت کی اقدار پر عمل کرنے سے ممکن ہوا ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’پائیدار امن، باہمی احترام اور وقار کے ساتھ جینے کی صلاحیت سے پروان چڑھتا ہے ‘‘۔
سنہا نے کہا’’اس تقریب کا تھیم ایک خوشحال اور جامع جموں و کشمیر کی اجتماعی خواہش کا آئینہ دار ہے ، جہاں ہر آواز ہم آہنگی میں حصہ ڈالتی ہے ‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’امن کا تصور لفظوں میں نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے جب شہری آزادی سے کام کر سکتے ہیں، مواقع حاصل کر سکتے ہیں اور بغیر کسی خوف کے زندگی گزار سکتے ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’جموں کشمیر کے عام لوگ اپنے عزم اور مشترکہ پیش رفت کے ذریعے اس استحکام کے حقیقی معمار ہیں‘‘۔
جموں کشمیر کو تبدیلی کی طرف لے جانے کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ خطہ بدامنی سے تعمیر نو کی طرف بڑھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا’’گزشتہ چند سالوں میں، ناممکن کو ممکن میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ وہ جگہیں جہاں کبھی ہنگامہ آرائی ہوتی تھی اب ترقی، تعلیم اور نئی امید کے آثار نظر آتے ہیں‘‘۔
ایل جی کاکہنا تھا’’ہم نے ایک ایسا جموں و کشمیر بنایا ہے جہاں اسکولوں کی دیواریں اب پتھروں کے ٹکراؤ سے نہیں بلکہ بچوں کی ہنسی، جدت اور تعلیم کی گونج سے لبریز ہیں۔ ہم نے ایک ایسا جموں و کشمیر بنایا ہے جہاں پلوامہ، شوپیاں اور کولگام جیسے قصبے، جو کبھی خاموشی میں ڈوبے رہتے تھے، اب نوجوانوں کے لیے ثقافتی اور ادبی مراکز میں بدل چکے ہیں۔ لال چوک اور پولو ویو جیسے بازار اب سنسان نہیں بلکہ نئی توانائی سے جگمگا رہے ہیں۔ ہم نے ایک ایسا جموں و کشمیر تخلیق کیا ہے جہاں ویتستا (جہلم) کی لہروں پر نئی اْمنگیں تیر رہی ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ’’گزشتہ پانچ برسوں میں ہماری بہادر افواج اور جموں و کشمیر پولیس نے ایک ایسا جموں و کشمیر تشکیل دیا ہے جہاں گولیوں اور دستی بموں کی آواز کی جگہ راگوں کی مٹھاس اور نئے جوش و خروش نے لے لی ہے‘‘۔
سنہا نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس امن و سکون کی حفاظت کریں جو واپس آیا ہے ۔ انہوں نے کہا’’یہ سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کی قیمت پر آیا ہے ‘‘۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندی اور منشیات کے استعمال کو مسترد کریں۔
ایل جی کا کہنا تھا’’تقسیم کی گونجنے والی آوازیں کشمیر کی حقیقی روح کی نمائندگی نہیں کرتیں‘‘۔
پہلگام حملے کے بعد ظاہر ہونے والے اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ اس طرح کے اتحاد کو جموں و کشمیر کے مستقبل کی بنیاد رہنا چاہیے ۔ایجنسیز










