جموں/۵نومبر
جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے چھاترو جنگلاتی علاقے میں بدھ کی صبح سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے دوران ایک پیرا فوجی جوان زخمی ہوگیا۔
فوج نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن ہنوز جاری ہے اور دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے ۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ’ایکس‘پر اپنے ایک بیان میں کہا’’فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چھاترو کے جنگلاتی علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ دورانِ تلاشی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ آپریشن جاری ہے اور فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر محاصرہ میں لے رکھا ہے ‘‘۔
ذرائع کے مطابق، فائرنگ کے ابتدائی تبادلے میں ایک پیرا فوجی جوان زخمی ہوا جسے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آرمی اسپتال اودھم پور منتقل کیا گیا جہاں اُس کی حالت اب مستحکم بتائی جا رہی ہے ۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کی تعداد دو سے تین کے درمیان ہوسکتی ہے اور وہ گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔علاقے میں اضافی فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ فرار کو روکا جا سکے ۔
ایک سینئر پولیس افسر نے کہا’’یہ آپریشن مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ جیسے ہی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی شروع کی‘دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے جوابی کارروائی کی‘‘۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کو وسیع کر دیا ہے ۔ گھنے جنگلات اور دشوار گزار علاقے کی وجہ سے پیش قدمی احتیاط سے کی جا رہی ہے ۔
اطلاعات کے مطابق، دہشت گردوں نے پہاڑی کے اوپری حصے سے فائرنگ کی جس کا جواب فورسز نے بھرپور انداز میں دیا۔ وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ، تاہم کسی دہشت گرد کے ہلاک ہونے کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈرونز اور نائٹ ویژن آلات کی مدد سے دہشت گردوں کی ممکنہ نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ فوج کے ترجمان کے مطابق، آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے کو مکمل طور پر کلیئر نہیں کر دیا جاتا۔
حکام نے بتایا کہ آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کیلئے اضافی کمک بھی طلب کی گئی ہے ، اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے گا۔
دریں اثنا سرحدی ضلع پونچھ میں بدھ کی صبح سیکورٹی فورسز نے مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات ملنے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی (سرچ آپریشن) شروع کر دی۔
ذرائع کے مطابق، منگل اور بدھ کی درمیانی شب مقامی لوگوں نے مینڈھر کے ساکھی میدان اور بالاکوٹ سیکٹر کے درمیان مشتبہ افراد کی نقل و حرکت دیکھی تھی جس کے بعد فورسز کو الرٹ کر کے علاقے میں سرچ آپریشن لانچ کیا گیا۔
دفاعی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں نے مشترکہ طور پر جنگلاتی علاقوں اور پہاڑی راستوں کو گھیرے میں لیا ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈرونز اور نائٹ ویژن آلات کی مدد سے پورے علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی دراندازی یا مشتبہ سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے ۔
قابل ذکر ہے کہ منگل کے روز فورسز نے ساکھی میدان کے علاقے میں ایک مشتبہ ڈرون برآمد کیا تھا جو زمین پر گرا ہوا ملا۔ فوجی اہلکاروں نے فوری طور پر علاقے کو سیل کر کے ڈرون کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ڈرون مبینہ طور پر پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی جانب سے بھیجا گیا تھا، تاہم اس کی تکنیکی جانچ اور پرواز کی سمت کے بارے میں تفصیلی رپورٹ تاحال زیرِ غور ہے ۔
(ویب ڈیسک)










