’گزشتہ کانگریس حکومت کے برعکس، مودی کی قیادت میں حکومت قوم کی حفاظت اور سلامتی کیلئے پرعزم ہے‘‘
سرینگر/۴ نومبر
وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پاکستان کے سرپرست دہشت گردوں کو بھارت پر دوبارہ حملہ کرنے سے باز رہنے کی وارننگ دی اور کہا کہ اگر وہ یہ غلطی دوہرائیں گے تو ’گولی کا جواب گولے سے دیا جائے گا‘ (ان کیلئے گولیوں کے بدلے توپیں استعمال کی جائیں گی)۔
شاہ نے کہا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف بہار کے مجوزہ دفاعی کوریڈور میں بنائے گئے بارودی مواد کا استعمال کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے بہار کے ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں کہا’’پاکستان کے دہشت گردوں نے پہلگام میں ہمارے شہریوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے ہماری ماؤں اور بہنوں کے ماتھے سے سندور صاف کر دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا انتقام ۲۰ دن کے اندر آپریشن سندور شروع کر کے لیا۔ بھارتی فوج نے پاکستانی زمین پر دہشت گردوں کو ختم کیا‘‘ ۔
شاہ نے یہ بھی کہا’’وزیر اعظم بہار میں دفاعی کوریڈور قائم کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان کے سرپرست دہشت گرد دوبارہ یہ غلطی کریں گے تو ‘گولی کا جواب گولے سے دیا جائے گا’ (ان کیلئے گولیوں کے بدلے توپیں استعمال کی جائیں گی)‘‘۔
ان کاکہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہونے والی توپیں ’بہار میں بنی‘ہوں گی۔انہوں نے الزام لگایا’’گزشتہ کانگریس حکومت کے برعکس، مودی کی قیادت میں حکومت قوم کی حفاظت اور سلامتی کے لیے پرعزم ہے‘‘۔
شاہ نے آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد اور ان کے بیٹے تراجشوی یادو پر بھی زبردست حملہ کیا اور الزام لگایا کہ وہ ’’گینگسٹر سے سیاست دان بنے مرحوم محمد شہاب الدین کی تعریف میں نعرے لگاتے رہے، جنہوں نے بہار میں آر جے ڈی کے ۱۵ سالہ دورِ حکومت کے دوران سیوان میں دہشت پھیلائی‘‘۔ان کاکہنا تھا’’لالو اور ان کی جماعت ’شہاب الدین امر رہے‘جیسے نعرے لگاتے ہیں ‘جنگل راج’ کا خواب دیکھتے ہیں مگر بہار کے لوگ ان کو یہ موقع نہیں دیں گے‘‘۔
شاہ نے بہار کے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ آر ایس ایس کے علامتی ‘کمل’ کے ساتھ ای وی ایم کا بٹن دبائیں تاکہ آر جے ڈی دور کے دوران ریاست کو ‘تباہ’ کرنے والا ‘جنگل راج’ واپس نہ آئے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے وعدہ کیا کہ اگر این ڈی اے اقتدار میں واپس آئی تو حکومت کوشی دریا کے پانی کو آبپاشی کے لیے اور سیلاب روکنے کے لیے ۲۶ہزار کروڑ روپے خرچ کرے گی۔
شاہ کاکہنا تھا’’لالو،رابڑی کے۱۵ سالہ دورِ حکومت میں جو’جنگل راج‘ آیا تھا اس کے واپس آنے کو روکنے کے لیے ‘کمل’ کے بٹن دباؤ…اگر آپ۶ نومبر کے ووٹنگ دن غلطی کر دیں تو ریاست میں پھر قتل، لوٹ مار، اغوا اور بھتہ خوری عام ہو جائیں گے‘‘۔
شاہ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے ہی بہار کو ہمہ جہتی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ان کاکہنا تھا’’مجموعی طور پر، اگر بہار میں این ڈی اے کو ووٹ دیا جاتا ہے تو کوشی دریا کے پانی کو ’مِتھیلانچل‘ کی آبپاشی کے لیے اور علاقے میں سیلاب روکنے کے لیے ۲۶ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے…گنگا، کوشی اور گندک ندیوں کا پانی آبپاشی اور ریاست میں سیلاب روکنے کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر این ڈی اے بہار میں اقتدار برقرار رکھتا ہے تو مِتھیلا، کوشی اور ترہٹ کے لوگ علاج کے لیے پٹنہ یا دہلی جانے کی ضرورت نہیں رکھیں گے، کیونکہ وہ داربھنگا کے ایمز میں معیاری طبی سہولتیں حاصل کریں گے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










