سرینگر/۳۱؍ اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے جمعہ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ کی بحالی کے مسئلے پر غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، حالانکہ اس بارے میں مرکزی وزیرِ داخلہ نے پوری وضاحت دی ہے۔
ایس کے آئی سی سی، سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیرِ داخلہ پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ’’پہلے حد بندی، پھر اسمبلی انتخابات، اور مناسب وقت پر ریاستی درجہ‘‘۔
سنہا نے کہا ’’کچھ لوگ اس مسئلے پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مرکز کے زیرِ انتظام حکومت کے پاس پہلے ہی کافی اختیارات موجود ہیں، اور ان اختیارات کو عوامی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ کنفیوڑن پھیلانے کیلئے۔‘‘
سنہا نے کہا ’’لیکن کچھ لوگوں کو کچھ مسئلہ ہے۔ جب اسمبلی انتخابات ہوئے تھے تو یہ بالکل واضح تھا کہ یہ انتخابات مرکز کے زیرِ انتظام خطے کی اسمبلی کے لیے ہو رہے ہیں۔ منتخب حکومت یہ بہانہ نہیں بنا سکتی کہ جب تک ریاستی درجہ بحال نہیں ہوتا، تب تک کام نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
ایل جی نے مزید کہا کہ ۳۱؍ اکتوبر ایک نئے جموں و کشمیر کی پیدائش کا دن ہے، ایک ایسا دور جو خوف، علیحدگی پسندی اور امتیاز کے خاتمے کا نشان ہے، اور امن، ترقی اور جمہوری شمولیت کے دور کا آغاز ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ چھ سال قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں تاریخ رقم ہوئی، جب ’’پہلی بار بھارتی پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین جموں و کشمیر میں نافذ ہوئے۔‘‘
سنہانے کہا ’’اگر ہم سات دہائیوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو بہت سے لوگوں نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرنے کیلئے قربانیاں دیں۔ اس سفر کی بنیاد سردار پٹیل نے رکھی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ماضی میں اس خطے کو تقسیم کرنے کی سازش کی۔
ایل جی نے کہا کہ ماضی میں صدرِ جمہوریہ ہند کو یہاں ایک انچ زمین پر بھی اختیار حاصل نہیں تھا۔ ’’چند افراد حکمرانی کرتے تھے جبکہ ہزاروں لوگ محرومی کی زندگی گزارتے تھے۔ کچھ لوگوں نے مصنوعی دیواریں کھڑی کیں جنہوں نے ہماری بہنوں کو اْن کے حقوق سے محروم رکھا۔‘‘
سنہا نے مزید کہا کہ آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی اور اس کے بعد ہونے والی اصلاحات کے ساتھ،۳۱ اکتوبر وہ دن بن گیا جب علیحدگی پسندی کی دیواریں ٹوٹنے لگیں۔ان کاکہنا تھا ’’جموں و کشمیر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ خوف کا دور ختم ہو چکا ہے۔ لوگ اب آزادانہ طور پر لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جس سے یونین ٹیریٹری میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نئی نسل نے تشدد کو مسترد کر دیا ہے۔ ’’پتھراؤ اب تاریخ بن چکا ہے۔ لوگ اب امن اور ترقی کی حمایت میں خود آگے آ رہے ہیں‘‘۔
سنہا نے مزید کہا کہ دہشت گردی صرف نظریے اور عوامی حمایت پر زندہ رہتی ہے۔ ’’جب معاشرہ وہ حمایت واپس لے لیتا ہے، تو دہشت گردی دم توڑ دیتی ہے‘ اور یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ندائے مشرق خبر)‘‘










