ترقیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنی والی مالی حدود ختم ‘ بجلی، پی ایچ ای اور صحت کے شعبوں میں اہم ترامیم
سرینگر/۲۸؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز حلقہ ترقیاتی فنڈ (سی ڈی ایف) اسکیم میں کئی اہم ترامیم کا اعلان کیا، جن کے تحت اراکینِ اسمبلی کو اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے زیادہ اختیارات دیے جائیں گے اور مالی حدود ختم کر دی گئی ہیں جو پہلے ترقیاتی سرگرمیوں کو محدود کرتی تھیں۔
اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو ماہ سے اس اسکیم کا جائزہ لے رہی تھی اور اب ایک ایسی تبدیلیوں کی سیریز کو منظوری دی گئی ہے جن کا مقصد منتخب نمائندوں کو مقامی ضروریات کے مطابق زیادہ لچک فراہم کرنا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہم اس میں کچھ تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ ہم ایوان کو اس بارے میں آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت نے کون سی تبدیلیاں منظور کی ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ بجلی کے ترقیاتی بنیادی ڈھانچے کے زمرے کے تحت دی گئی مالی حد کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اراکین اسمبلی اس شعبے میں کسی بھی حد کے بغیر ترقیاتی کاموں کی سفارش کر سکیں گے۔ پہلے یہ حد۳۰ لاکھ روپے مقرر تھی۔ اسی طرح سولر لائٹس کی تنصیب پر ۱۰ لاکھ روپے کی حد بھی ختم کر دی گئی ہے۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے شعبے میں اراکین اسمبلی اب موبائل واٹر ٹینکرز کی خریداری اور گھریلو پانی کے کنکشن کے منصوبے تجویز کر سکیں گے۔تعلیم کے شعبے میں اسکول وینوں اور بسوں‘ تین یا چار پہیوں والی گاڑیوں‘ کی خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں وہیل چیئر، ٹرائی سائیکل اور برقی اسکوٹرز (دستی اور موٹرائزڈ دونوں اقسام) کی خریداری کی بھی اجازت ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے حالیہ تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی کو ایک بار کے لیے اپنے حلقہ ترقیاتی فنڈ سے ۵۰ لاکھ روپے تک متاثرہ خاندانوں کی بحالی پر خرچ کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ رعایت موجودہ مالی سال اور۲۰۲۶۔۲۷ کے لیے لاگو ہوگی۔
غیر متاثرہ علاقوں کے اراکین اسمبلی کو اجازت ہوگی کہ وہ ۱۰ لاکھ روپے تک کے منصوبے متاثرہ حلقوں میں تجویز کریں یا وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ میں تعاون کریں، بشرطیکہ فنڈز متاثرہ علاقوں کے لیے مخصوص ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ شق جس کے تحت اراکین اسمبلی کو اپنی سی ڈی ایف رقم کا ۸۰ فیصد ایک مالی سال کے اندر خرچ کرنا لازمی تھا، ختم کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے یہ شرط ہٹا دی ہے۔ اب ہم نے اراکین اسمبلی کیلئے یہ ۸۰ فیصد خرچ کرنے کی پابندی نہیں رکھی‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید بتایا کہ اگرچہ سی ڈی ایف کا فریم ورک اب بھی ایم پی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم (ایم پی ایل اے ڈی ایس) پر مبنی رہے گا، لیکن اس میں کئی بہتریاں متعارف کرائی گئی ہیں۔
قدرتی آفات جیسے زلزلے، سیلاب یا خشک سالی سے متاثرہ لوگوں کے لیے عارضی شیڈ تعمیر کرنے کی اجازت بھی اب سی ڈی ایف کے تحت دی گئی ہے۔
بوڑھوں کے گھروں، پناہ گاہوں اور یتیم خانوں کو بستر، برتن، کتابیں اور یونیفارم خریدنے کے لیے ۳ لاکھ روپے تک کی گرانٹ دی جا سکے گی۔
اسی طرح نوجوانوں کے کلبوں اور کھیلوں کی تنظیموں کو کھیلوں کا سامان خریدنے کے لیے حکومت کے مجاز چینلز کے ذریعے گرانٹ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اراکین اسمبلی اپنے حلقہ ترقیاتی فنڈ سے ۲۰ لاکھ روپے تک کی رقم معاشی طور پر کمزور طبقوں، بشمول ڈرائیوروں اور بی پی ایل (غربت کی لکیر سے نیچے) خاندانوں کے مکانات کی بہتری کے لیے مختص کر سکیں گے۔
یہ فنڈ پردھان منتری آواس یوجنا کے طرز پر استعمال ہوگا اور اس کے لیے تصدیق اور جانچ لازمی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا’’یہ اصلاحات اس لیے کی جا رہی ہیں تاکہ سی ڈی ایف کو عوام کی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر بنایا جا سکے اور اراکین اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ وہاں مدد فراہم کریں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نظرثانی شدہ سی ڈی ایف گائیڈلائنز حکومت کی باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد فوری طور پر نافذ ہوں گی۔ندائے مشرق خبر










