سرینگر/۲۵؍ اکتوبر
بھارت نے زور دیا ہے کہ جمہوریت پاکستان کے لیے ایک ’غیر فطری‘ تصور ہے ۔ اس نے اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرے جو اس کی غیر قانونی قبضے میں ہیں، جہاں مقامی آبادی فوجی قبضے، ظلم و جبر اور وسائل کے غیر قانونی استحصال کے خلاف کھلے طور پر احتجاج کر رہی ہے۔
پاکستان کے نمائندے کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ’اقوام متحدہ کی تنظیم: مستقبل کی سمت‘ کے موضوع پر ہونے والی کھلی بحث میں کیے گئے بیانات کے جواب میں بھارت کے مستقل مندوب، سفیر پرواتھنینی ہریش نے کہا’’جموں کشمیر کے لوگ اپنے بنیادی حقوق بھارت کی آزمودہ جمہوری روایات اور آئینی فریم ورک کے مطابق استعمال کرتی ہیں‘‘۔
ہریش نے کہا’’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ تصورات پاکستان کیلئے غیر فطری ہیں‘‘۔سفیر نے دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ’’ہمیشہ سے بھارت کا ایک لازمی اور اٹل حصہ رہا ہے اور رہے گا‘‘۔
اسلام آباد کو سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے ہریش نے کہا’’ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین اور جاری خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرے جو اس کے غیر قانونی قبضے میں ہیں، جہاں مقامی آبادی پاکستان کے فوجی قبضے، ظلم، سفاکی اور وسائل کے غیر قانونی استحصال کے خلاف کھلے طور پر احتجاج کر رہی ہے‘‘۔
بھارتی سفیر نے یہ بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کو ’’حقیقی، جامع اصلاحات‘‘ کرنی چاہیے، اور کہا کہ ۸۰ سال پرانی سلامتی کونسل کی تشکیل موجودہ عالمی سیاسی حقیقتوں کی عکاس نہیں ہے۔ ‘‘
ان کاکہنا تھا’’۱۹۴۵ کے جغرافیائی و سیاسی حالات کی عکاسی کرنے والی پرانی کونسل کی تشکیل ۲۰۲۵ کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے ’’مستقل اور غیر مستقل دونوں کیٹیگریز میں توسیع کے لیے وقت بند اور تحریری مذاکرات‘‘ کا مطالبہ کیا۔
ہریش نے زور دیا کہ عالمی جنوبی ممالک کو عالمی فیصلہ سازی میں زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے، اور کہا’’اصلاحات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا ہمارے شہریوں، خاص طور پر عالمی جنوبی ممالک کے لیے شدید نقصان دہ ہے‘‘۔
بھارتی سفیر نے کہا کہ یہ ممالک انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے اپنے مخصوص چیلنجز ہیں، خصوصاً ترقی، ماحولیاتی مسائل اور مالیات کے شعبوں میں، اور عالمی فیصلہ سازی کو زیادہ جمہوری اور شمولیتی بنانا ضروری ہے۔
بھارت کی کثیرالجہتی عزم کی نشاندہی کرتے ہوئے ہریش نے کہا کہ دنیا کو ’سفید چٹ اور منصبوں‘ سے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ اقوام متحدہ کے لیے ایک نیا وڑن تشکیل دیا جا سکے جو عالمی چیلنجز جیسے وبائیں، دہشت گردی، اقتصادی عدم استحکام اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں زیادہ فعال اور لچکدار ہو۔
ہریش نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی کثیرالجہتی تنظیم کو ’’اہمیت، جواز، ساکھ اور مؤثریت‘‘ کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی تعاون کو بڑھتی ہوئی حد تک خیرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ترقی تک رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ترقی جو یونیورسل نہ ہو’’نہ اخلاقی طور پر پائیدار ہے اور نہ عملی طور پر قابل عمل‘‘۔
بھارتی سفیر نے اقوام متحدہ کے طریقہ کار کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ امن قائم رکھنے والے اہلکار ‘‘روزانہ نئے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں’’ اور انہیں حقیقی مینڈیٹ، مناسب وسائل اور ٹیکنالوجیکل سپورٹ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف اقوام متحدہ کے اداروں کی ساختی اصلاحات قابلِ تعریف ہیں، لیکن ناکافی ہیں، اور کہا کہ اقوام متحدہ کی ۸۰ ویں سالگرہ پر’’اقوام متحدہ اور اس کے بنیادی اداروں کی حقیقی، جامع اصلاحات‘‘ کی جانی چاہیے۔
ہریش نے جنرل اسمبلی کو اقوام متحدہ کا بنیادی فیصلہ ساز اور پالیسی ساز ادارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا، اور دیگر اداروں خصوصاً سلامتی کونسل کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی تاکہ اقوام متحدہ چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو حقیقی معنوں میں پورا کیا جا سکے۔
بھارتی سفیر نے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اقوام متحدہ کو ‘‘منقسم سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے ایک تھیٹر’’ کے طور پر استعمال نہ کریں، اور کہا’’ایک دنیا جو کئی شگافوں اور اختلافات میں بٹی ہوئی ہے، میں اقوام متحدہ ہی واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی اجتماعی توانائی کو عالمی مفاد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں‘‘۔
ہریش نے بھارت کے تہذیبی تصور وسودھائیوا کتمبکم ’دنیا ایک خاندان ہے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام رکن ممالک کو مل کر اس وڑن کو حقیقت بنانے کیلئے ہاتھ ملا دینا چاہیے تاکہ اقوام متحدہ کو نئے دور کیلئے موزوں بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔










