سرینگر/۲۴؍اکتوبر
بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے متاثرین اور دہشت گردوں کو ایک جیسا قرار دینا عالمی سیاست کی بدترین منافقت ہے۔
جے شنکر نے اقوام متحدہ کی۸۰ ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر اس پر تنقید کی کہ اس نے پاہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے دہشت گرد گروپ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تحفظ دینے کی کوشش کی۔
جے شنکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اقوام متحدہ کا موجودہ نظام’پھنس‘ گیا ہے اور اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’’اقوام متحدہ کے مباحثے حد سے زیادہ منقسم اور اس کا نظامِ کار واضح طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ کوئی بھی معنی خیز اصلاح خود اصلاحی عمل کے نام پر روکی جا رہی ہے‘‘۔
وزیر خارجہ نے کہا’’اقوام متحدہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی پر اس کا ردعمل ہے۔ جب ایک رکن ملک کھلے عام اس تنظیم کا دفاع کرے جو پاہلگام جیسے بربریت بھرے حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، تو یہ کثیرالجہتی نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے‘‘۔
جے شنکر نے نام لیے بغیر پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا’’اگر دہشت گردی کے متاثرین اور دہشت گردوں کو عالمی حکمتِ عملی کے نام پر برابر قرار دیا جائے تو دنیا اس سے زیادہ بیحس اور کیا ہو سکتی ہے؟ جب خود ساختہ دہشت گردوں کو پابندیوں کے عمل سے بچایا جاتا ہے، تو یہ ان کے اخلاص پر کیا سوال نہیں اٹھاتا؟‘‘
خیال رہے کہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہے اور جولائی کے مہینے میں اس نے کونسل کی صدارت بھی کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے سلامتی کونسل کے اس پریس بیان میں سے ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘کا ذکر حذف کرنے کی کوشش کی تھی، جس نے پاہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ گروپ دراصل لشکرِ طیبہ کا ایک فرنٹ سمجھا جاتا ہے۔
جے شنکر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ اپنے بنیادی مقاصد سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ’’اگر بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کو محض زبانی جمع خرچ بنا دیا گیا ہے تو ترقی اور سماجی و اقتصادی پیش رفت کی حالت اس سے بھی زیادہ ابتر ہے‘‘۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف ۲۰۳۰ کے ایجنڈے کی سست رفتاری ‘‘گلوبل ساؤتھ’’ کی مشکلات کا واضح پیمانہ ہے۔ ’تجارت، سپلائی چین انحصار اور سیاسی بالادستی جیسے مسائل نے ترقی پذیر ممالک کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے‘۔تاہم، جے شنکر نے اقوام متحدہ سے امید نہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ ان کے الفاظ میں’’اس تاریخی موقع پر ہم امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، کثیرالجہتی نظام کے تئیں ہمارا عزم مضبوط رہنا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں کمزوریاں ضرور ہیں، مگر بحران کے اس وقت میں اسے سہارا دینا ہی دانشمندی ہے‘‘۔
جے شنکر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب بھارت بارہا اقوام متحدہ کی اصلاحات، بالخصوص سلامتی کونسل میں توسیع اور عالمی دہشت گردی پر مؤثر لائحہ عمل کا مطالبہ کر چکا ہے۔ ان کا پیغام صاف تھا: دنیا کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے یا مصلحتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ویب ڈیسک
۔۔۔۔۔۔۔










