پیرس، 21 اکتوبر (یو این آئی) فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی نے منگل کے روز پیرس کی لا-سانتے جیل میں خودسپردگی کر دی۔ یہ فرانس کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی سابق صدر کو جیل میں بند کیا گیا ہے ۔
عدالت نے انہیں 2007 کے صدارتی انتخابات میں لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے رقومات کے لین دین کے معاملے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے ، جس میں دو سال سخت قید بھی شامل ہے ۔
سرکوزی پر الزام تھا کہ انہوں نے لیبیا کے اس وقت کے حکمران کرنل معمر قذافی کی حکومت سے اپنی انتخابی مہم کے لیے تقریباً 50 ملین یورو (تقریباً 450 کروڑ روپے ) خفیہ طور پرسے لیے تھے ۔ عدالت میں ثابت ہوا کہ یہ رقم خفیہ طریقے سے لی گئی تھی اور اس کا استعمال لوگوں پر سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس معاملے کی اطلاع سال 2012 میں اس وقت سامنے آئی، جب لیبیائی افسران اور قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے انکشاف کیا کہ سرکوزی کو انتخابی مدد فراہم کی گئی تھی۔ اس کے بعد سال 2018 میں فرانسیسی تحقیقاتی اداروں نے باقاعدہ تفتیش شروع کی۔
عدالت نے 25 ستمبر 2025 کو انہیں ”مجرمانہ سازش” کا قصوروار قرار دیا اور فوری سزا نافذ کرنے کا حکم دیا۔ سرکوزی نے اس فیصلے کو ”سیاست سے متاثر’ قرار دیا اور اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ فرانس میں بدعنوانی اور اقتدار کی جوابدہی کے ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اس سے قبل 2011 میں سابق صدر جیک شیراک کو بھی بدعنوانی کا مجرم قرار دیا گیا تھا، لیکن صحت کی بنیاد پر انہیں جیل نہیں بھیجا گیا تھا۔
سرکوزی کی اپیل پر عدالت آئندہ ہفتے سماعت کرے گی۔







