سرینگر/۱۷؍اکتوبر
جموں کشمیر میں صرف چار ماہ قبل تین سیاسی جماعتوں کے ذریعے عوامی اتحاد برائے تبدیلی (پی اے سی) کے قیام کے بعد، اس کے ایک رکن، جماعتِ اسلامی کے حمایت یافتہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ (جے ڈی ایف) ‘ نے جمعہ کو اتحاد چھوڑنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ اتحاد کے ’طریقہ کار میں اختلافات‘بتایا گیا۔
چند ماہ قبل قائم ہونے والے اس اتحاد میں سجاد لون کی جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) اور جے ڈی ایف شامل تھے۔
جے ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا’’ہم بڑے باہمی احترام کے ساتھ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ (جے ڈی ایف) نے عوامی اتحاد برائے تبدیلی (پی اے سی) سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے، جو چند ماہ قبل پیپلز کانفرنس (پی سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) کے تعاون سے وجود میں آیا تھا‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اتحاد کے دائرہ کار میںجے ڈی ایف نے ہمیشہ مختلف رائے ظاہر کرنے کا اپنا جمہوری حق استعمال کیا، اور غور و فکر کے بعد یہ محسوس کیا کہ آزاد راستہ اختیار کرنا اس کے وڑن، اقدار اور اصولوں کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔
حالانکہ جے ڈی ایف نے پی اے سی کے کام کرنے کے انداز میں ’کچھ اختلافات‘ کا حوالہ دیا، لیکن تفصیلات نہیں بتائیں۔
ذرائع کے مطابق سابق جماعتی کارکن آئندہ نومبر میں ہونے والے بڈگام اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتے تھے، جبکہ پی اے سی حکیم یاسین کو مشترکہ امیدوار کے طور پر آگے بڑھانا چاہ رہا تھا۔
جے ڈی ایف کے اتحاد سے نکلنے کے بعد پی اے سی کیلئے امیدوار کے لیے مقابلہ سخت ہوگا کیونکہ سابق جماعتی کارکن اس علاقے سے حمایت حاصل کر سکتے تھے۔
پی اے سی جموں و کشمیر میں ایک نیا سیاسی اتحاد تھا، جو صرف جون اس سال میں قائم ہوا تاکہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرے اور خطے کی قدیم جماعتوں کے مقابلے میں ایک متبادل پیش کرے۔










