نئی دہلی، 14 اکتوبر (یو این آئی) یوتھ کانگریس نے آر ایس ایس کے لوگوں کے ذریعہ مبینہ طور پر بدسلوکی کے بعد کیرالہ میں ایک دلت نوجوان کی خودکشی کے خلاف منگل کے روز یہاں احتجاجی مظاہرہ کیا اور الزام لگایا کہ آر ایس ایس کی شاخیں استحصال کے اڈے بن گئی ہیں۔
یوتھ کانگریس کے ترجمان ورون پانڈے نے بتایا کہ بڑی تعداد میں تنظیم کے کارکنان صبح سے ہی احتجاج کے لیے آر ایس ایس کے دفتر کے باہر پہنچے تھے ۔ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی نوجوانوں کا ہجوم بن چکا تھا، اور جیسے ہی یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب نے مارچ شروع کرنے کی اجازت دی، بڑی تعداد میں نوجوان آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوگئے ، انہوں نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور حکومت مخالف نعرے لگا ئے ۔
یوتھ کانگریس کے صدر کی قیادت میں یوتھ کانگریس کے کارکن نعرے لگاتے ہوئے ڈاکٹر راجندر پرساد روڈ کی طرف بڑھنے کے لیے اپنے دفتر سے نکلے ، لیکن وہاں تعینات دہلی پولس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ جس کے بعد پولیس نے مسٹر ادے بھانو چب اور متعدد دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
قبل ازیں، مسٹر ادے بھانو چِب نے احتجاجی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے آر ایس ایس کے خلاف نعرے لگائے اور کیرالہ میں آر ایس ایس کی ہراسانی کے سبب خودکشی کرنے والے 26 سالہ نوجوان کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کیا۔
آر ایس ایس کی شاخوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا پرچار کرنے والی اس تنظیم کی شاخیں استحصال کے اڈے بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے نوجوان نے اپنے خودکشی کے نوٹ میں آر ایس ایس کے خلاف جو الزامات لگائے ہیں وہ انتہائی سنگین ہیں اور اس سے پوری قوم کے سامنے آر ایس ایس کا اصل چہرہ بے نقاب ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اپنے آپ کو مہذب تنظیم قرار دے کر لوگوں کا استحصال کر رہی ہے اور لوگوں کو اذیتیں دے کر غیر اخلاقی حرکتیں کر رہی ہے ۔
یوتھ کانگریس کے صدر نے کہا کہ کیرالہ میں خودکشی کرنے والے نوجوان آنندو اجی نے اپنے خودکشی کے نوٹ میں لکھا ہے کہ آر ایس ایس کے تربیتی کیمپوں میں بہت سارے بچوں کا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نے اپنے نوٹ میں جو لکھا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے ۔ آنندو آجی نے اپنی پوسٹ میں کئی بار آر ایس ایس کا نام لیا، لیکن ایف آئی آر میں آر ایس ایس کا ذکر تک نہیں ہے ۔










