’میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردوں کے دباؤ میں انہوں نے سرحد پار مسلط کردہ جھوٹا بیانیہ سامنے لایا‘
سرینگر/۱۱؍اکتوبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز مصنفین پر زور دیا کہ وہ تاریخ کی کتابوں میں شامل جھوٹے اور من گھڑت بیانیوں‘کو درست کریں اور ان ’جھوٹوں‘ کو چیلنج کرتے ہوئے درست، حقائق پر مبنی تفصیلات پیش کریں۔
شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی آئی سی ) میں سری کلا فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ کشمیر لٹریچر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا’’مصنفین کو چاہیے کہ وہ تحقیق کریں اور گمراہ کن تاریخی تفصیلات کو چیلنج کرنے اور درست کرنے کیلئے ٹھوس ثبوت استعمال کریں‘‘۔
ایل جی نے جموں کشمیر سے متعلق بیانیے کو درست کرنے پر بھی زور دیا، تاکہ ’غلط معلومات‘ کی نشاندہی کر کے انہیں مصدقہ حقائق کے ذریعے رد کیا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نشاندہی کی کہ نوآبادیاتی دور کے دوران اور آزادی کے بعد بھی ایک مخصوص گروہ کے مصنفین نے ’’اپنے نظریاتی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے لیے ہماری تاریخ کو مسخ کیا۔‘‘
سنہا نے کہا ’’آج نوجوان مورخین کو چاہیے کہ وہ درست اور حقائق پر مبنی تفصیلات فراہم کریں اور ان جھوٹوں کو چیلنج کریں۔ گزشتہ چند برسوں میں نئے مصنفین نے بھارت کی تاریخ کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ ایک شاندار اقدام ہے۔ ساتھ ہی بھارتی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوششیں بھی قابلِ ستائش ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنرنے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں بیانیے کو درست کرنا ناگزیر ہے، ’’تاکہ غلط معلومات کی نشاندہی کر کے انہیں مصدقہ حقائق کے ذریعے رد کیا جا سکے۔‘‘
ایل جی نے کہا ’’جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں تک ایک گمراہ کن بیانیہ پھیلایا گیا۔ مصنفین اور میڈیا کے نمائندے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے نظام کے خوف کی وجہ سے وہ وادی میں اس بیانیے کو آگے بڑھانے پر مجبور تھے جو سرحد پار سے مسلط کیا جا رہا تھا‘‘۔
سنہا نے کہا کہ چونکہ دہشت گردی کے ڈھانچے کو منہدم کر دیا گیا ہے، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی اصل کہانی، بندوق کے خوف اور تعصب سے آزاد ہو کر پیش کی جائے، تاکہ اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے اور سماجی و اقتصادی ترقی کو رفتار دی جا سکے‘‘۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں قارئین کو نئے زاویے اور وڑن فراہم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بے مثال چیلنجوں اور مواقع سے نمٹا جا سکے اور فطرت، ثقافت اور عوامی بہبود کی بہتر تفہیم حاصل ہو سکے۔(ندائے مشرق خبر)









