غزہ، 8 اکتوبر (یو این آئی) اسرائیل نے غزہ کی جانب محو سفر فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کے قافلے پر حملہ کرکے اسے روک لیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قافلہ اسرائیلی فوج کے حملے کی زد میں ہے اور اسے غزہ جانب سے روک دیا گیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کی طرح ایف ایف سی بھی ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جو فلسطین کی حمایت کرنے والے کارکن گروپوں پر مشتمل ہے اور یہ غزہ پر اسرائیل کی ناکہ بندی توڑنے کیلیے سمندری مشن طے کرتا ہے تاکہ فلسطینیوں کیلیے انسانی امداد پہنچائی جا سکے ۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ فلوٹیلا کی کشتیاں اور مسافر محفوظ ہیں انہیں اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا گیا ہے اور جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قانونی سمندری ناکہ بندی توڑنے اور جنگی زون میں داخل ہونے کی ایک اور کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔
دوسری جانب، ایف ایف سی نے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ اسرائیلی فوج سگنلز میں خلل ڈال رہی ہے اور کم از کم دو کشتیوں پر قبضہ کرچکی ہے ، اسرائیلی فوج کا بین الاقوامی پانیوں پر کوئی قانونی دائرہ اختیار نہیں ہے ، ہمارا فلوٹیلا کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔
کشتیوں پر 110,000 ڈالر سے زائد مالیت کی امداد موجود ہے جس میں غزہ کے اسپتالوں کیلیے ادویات، سانس کے آلات اور غذائی اشیاء شامل ہیں۔
یہ واقعہ حالیہ دنوں میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے ۔ اس سے قبل اسرائیل نے تقریباً 40 کشتیوں کو روکا اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے 450 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا جو کہ غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے ۔








