اسلام آباد، 07 اکتوبر (یواین آئی) افغانستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے ویزے کی دیر سے درخواست اور غلط معلومات فراہم کرنے کی وجہ سے بیرون ملک مقیم افغان پلیئرز کو پاکستان کے ویزے جاری نہیں ہو سکے، جس کے باعث پاکستان فٹبال فیڈریشن نے میچ کے انعقاد اور واک اوور کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایشین کپ کوالیفائر کا میچ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں شیڈول ہے تاہم افغانستان کی فٹبال ٹیم کو پاکستان کے ویزے ملنے کا مسئلہ اب تک حل نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق آج صرف 3 پلیئرز اور 10 آفیشلز کو پاکستان کے ویزے جاری ہوئے ہیں، صرف ان افراد کو ویزے جاری ہوئے جو کابل ایمبیسی میں بائیو میٹرک کے لیے پہنچے تھے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن بقیہ پلیئرز کے لیے ویزا آن ارائیول کی کلیئرنس لینے کے لیے بھی کوشش کر رہی ہے۔
افغانستان سے باہر مقیم ٹیم کے پلیئرز کو پاکستان کے ویزے جاری نہ ہو سکے۔ افغانستان فٹبال فیڈریشن نے بیرون ملک مقیم پلیئرز کے لیے بھی انٹرویو اور بائیو میٹرک کا مقام افغانستان درج کیا تھا۔
ذرائع پی ایف ایف کے مطابق ویزوں کا مسئلہ افغانستان کی جانب سے تاخیر سے درخواست اور غلط مقام درج کرنے کی وجہ سے ہوا۔
افغانستان فٹبال حکام نے 27 ستمبر کو پاکستاں کے ویزوں کی درخواست جمع کرائی تھی۔ ویزوں کا ریفرنس نمبر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو دو اکتوبر کو بھیجا گیا تھا۔
پاکستاں فٹبال فیڈریشن معاملے پر ایشین فٹبال کنفیڈریشن سے رابطے میں ہے، پی ایف ایف نے اے ایف سی کو تاخیر میں افغانستان حکام کی غلطی سے آگاہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کا تاخیر سے ویزا اپلائی کرنا اے ایف سی کمپیٹیشن ریگولیشن کی خلاف ورزی ہے، اے ایف سی قوانین کے مطابق تینوں کو میزبان ملک کا ویزا کم از کم 30 روز قبل حاصل کرنا ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن اب بھی معاملہ حل کرانے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔
ذرائع پی ایف ایف کا کہنا ہے کہ میچ نہ ہوا تو پاکستان فٹبال فیڈریشن افغانستان کی غلطی کی بنیاد پر واک اوور کا کیس اپلائی کرے گی، اے ایف سی موجودہ صورتحال میں ری شیڈول اور واک اوور دونوں آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔







