چنڈی گڑھ، 6 اکتوبر (یو این آئی) محکمہ بجلی کے ملازمین اور انجینئروں کی قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی او ای ای) نے پیر کے روز مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے اپنائی گئی نجکاری کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے اور ممبئی میں 4 اور 5 نومبر کو ہونے والی آئندہ ڈسٹری بیوشن یوٹیلیٹی میٹنگ کے خلاف زبردست مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بجلی کی نجکاری کے ایجنڈے پر مرکوز اس ڈسٹری بیوشن یوٹیلیٹی میٹنگ کی پورے ہندوستان میں پاور سیکٹر کی تنظیموں اور فیڈریشنوں نے بڑے پیمانے پر مخالفت کی ہے ۔
آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن (اے آئی پی ای ایف) کے صدر شیلیندر دوبے نے ممبئی کی میٹنگ کے نجکاری پر مبنی ایجنڈے پر گہری ناراضگی کا اظہار کیا اور بڑی نجی کمپنیوں جیسے ٹاٹا پاور، بی ایس ای ایس، ریلائنس پاور، اور انڈین اسمارٹ گرڈ فورم کی شرکت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آل انڈیا ڈسکام ایسوسی ایشن کی بھی نکتہ چینی کی کہ وہ حکومت اور نجی اداروں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے ۔
اے آئی پی ای ایف کے میڈیا ایڈوائزر وی کے گپتا نے بتایا کہ آن لائن میٹنگ کی صدارت این سی سی او ای ای ای کے نائب صدر سبھاش لامبا نے کی اور اس میں اے آئی پی ای ایف کے صدر شیلیندر دوبے ، اے آئی پی ای ایف جنرل سکریٹری رتناکر راؤ، اے آئی پی ای ایف جنرل سکریٹری آر کے ترویدی، اے آئی پی ای ایف کے صدر موہن شرما اور کرشنا بھیور، سدیپ دتہ، سمر سنہا، اور دیگر نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 4 اور 5 نومبر کو بجلی کے ہزاروں ملازمین ممبئی کے سہارا اسٹار ہوٹل میں احتجاج کریں گے ، جو ڈسٹری بیوشن یوٹیلیٹی میٹنگ کا مقام ہے ۔
مسٹر گپتا نے کہا کہ مرکزی وزیر توانائی منوہر لال کھٹر کو میمورنڈم پیش کیا جائے گا، جس میں اتر پردیش اور پڈوچیری میں نجکاری کے فیصلوں کو منسوخ کرنے ، مہاراشٹر کے صنعتی شہروں میں متوازی لائسنس گرانٹ واپس لینے اور چنڈی گڑھ میں نجکاری کی پہل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
یکجہتی کے طور پر، ملک بھر میں تمام ریاستی دارالحکومتوں اور پروجیکٹ سائٹس پر بیک وقت مظاہرے کیے جائیں گے ۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر نجکاری کی پالیسیاں جاری رہیں تو 27 لاکھ پاور ملازمین، کنٹریکٹ ورکرز اور انجینئرز ملک گیر تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔
کمیٹی نے اتر پردیش میں جاری 312 روزہ احتجاج کو تاریخی قرار دیتے ہوئے سرگرم حمایت کا بھی وعدہ کیا۔ کمیٹی نے پڈوچیری میں نجکاری کی شروعات کی مذمت کی اور نوی ممبئی، پونے ، ناسک اور ناگپور جیسے شہروں میں متوازی لائسنسنگ کی سختی سے مخالفت کی۔
دریں اثناء، اے آئی پی ای ایف نے مطالبہ کیا کہ ریاستی بجلی کمپنیوں میں تمام نجکاری اور تنظیم نو کی سرگرمیاں اس وقت تک روک دی جائیں جب تک ملازمین اور انجینئرز یونینوں کے ساتھ جامع بات چیت نہیں کی جاتی اور مسائل کو خوش اسلوبی سے حل نہیں کیا جاتا ہے ۔








