دوسری بار ہم وہ تحمل نہیں رکھیں گے جو ہم نے حالیہ آپریشن سندور میں رکھا تھا:جنرل دیویدی
دہشت گرد پاکستان میں جہاں اور جتنے دور ٹھکانے بنالیں انہیں ختم کرنے کی صلاحیت ہم میں موجود ہے:سنگھ
سرینگر/۳؍اکتوبر
بھارت نے پاکستان کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی حمایت بند کریں ورنہ اپنی جغرافیائی موجودگی کھو دیں۔
آرمی چیف جنرل اوپندر دیویدی نے کہا ’’اگر پاکستان نقشے پر اپنی جگہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے ریاستی سطح کی دہشت گردی بند کرنی ہوگی‘‘۔
راجستھان کے انوپ گڑھ میں ایک فوجی پوسٹ پر خطاب کرتے ہوئے جنرل دیویدی نے کہا کہ اس بار بھارتی فورسز کوئی تحمل نہیں برتیں گی، اس اشارے کے ساتھ کہ اگر اسلام آباد دہشت گردی کی برآمد بند نہیں کرتا تو ’آپریشن سندور‘کا دوسرا مرحلہ دور نہیں۔
فوجی سربراہ نے کہا’’اس بار ہم وہ تحمل نہیں رکھیں گے جو ہم نے آپریشن سندور ۰ء۱ میں رکھا تھا۔ اس بار ہم ایسا کریں گے کہ پاکستان سوچے گا کہ کیا وہ جغرافیہ میں اپنی جگہ برقرار رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر پاکستان اپنی جغرافیائی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے ریاستی دہشت گردی بند کرنی ہوگی‘‘۔
جنرل دیویدی نے فوجیوں سے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی۔ان کاکہنا تھا’’اگر خدا نے چاہا، تو آپ کو جلد موقع ملے گا۔ سب کو نیک تمنائیں‘‘۔
جنرل دیویدی کی یہ وارننگ اس دن کے آغاز میں ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ کے بیان کے بعد آئی، جنہوں نے کہا تھا کہ بھارتی فورسز نے مئی میں آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ فائٹر طیارے، جن میں امریکی ساختہ ایف ۱۶؍اور چینی جے ایف۱۷ شامل ہیں، مار گرائے تھے۔
یہ میگا فوجی آپریشن پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی جانب سے مناسب جواب دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ بھارتی فورسز نے ۷ مئی کو پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں نو دہشت گرد کیموں کو طویل فاصلے کے درست ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا۔
دہشت گرد کیمپوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک جنگ کے قریب پہنچ گئے، جس کے دوران بھارتی ایئر چیف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پانچ فائٹر طیارے اور ایک ’بڑا پرندہ‘، ممکنہ طور پر ایئر بورن ارلی وارننگ اور کنٹرول طیارہ، ضائع ہوئے۔
۱۰ مئی کو فائر بندی ہوئی جب پاکستانی کمانڈرز نے بھارتی ہم منصبوں سے اپیل کی کہ جارحیت بند کی جائے۔
آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران، بھارت نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی بے گناہ کی جان کو نقصان نہیں پہنچے گا اور کوئی فوجی ہدف تباہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ توجہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو ختم کرنے پر تھی۔
جنرل دیویدی نے مزید کہا کہ بھارت نے دنیا کے سامنے آپریشن سندور کے دوران تباہ کیے گئے دہشت گرد ٹھکانوں کے شواہد پیش کیے۔ اگر بھارت نے یہ نہیں کیا ہوتا تو پاکستان سچائی کو چھپا دیتا۔
آرمی چیف نے آپریشن سندور کے دوران غیر معمولی خدمات انجام دینے والے تین افسران کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ اس تقریب میں بی ایس ایف کے۱۴۰ ویں بٹالین کے کمانڈنٹ پربھاکر سنگھ، راجپوتانا رائفلز کے میجر ریتیش کمار، اور حوالدار موہت گیرہ کو خصوصی شناخت دی گئی۔
دوسری جانب انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) کے سربراہ ایئر مارشل‘امر پریت سنگھ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مئی میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف۱۶ تھے۔
سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں۳۰۰ کلو میٹر اندر ’طویل کارروائی‘ کی گئی جس میں پاکستان کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
جمعے کو۹۳ ویں یوم فضائیہ کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایئر مارشل اے پی سنگھ کا کہنا تھا ’ ’ہم نے ایک فیصلہ لیا کہ ہمیں پہلگام میں معصوم لوگوں کی جانوں کے ضیاع پر پاکستان سے بدلہ لینا ہے اور اس کے لیے انڈین ایئر فورس نے سب سے اہم کردار ادا کیا‘‘۔
ایئر مارشل اے پی سنگھ نے کہا ’’آئی اے ایف نے متعدد پاکستانی فضائی اڈوں اور اس سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ، جس میں کم از کم چار ریڈار سائٹس، دو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، دو رن وے اور تین ہوائی جہاز کے ہینگرز اور وہاں موجود جہازوں کو نقصان پہنچا‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ ان کارروائیوں میں ایک بڑا ٹرانسپورٹ طیارہ جو سی۱۳۰؍ اور تقریباً پانچ سے چھ لڑاکا طیارے جن میں ممکنہ طور پر ایف۱۶ بھی شامل ہیں، تباہ یا غیر فعال ہوئے۔
اس سے قبل ستمبر میں بھی انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیا نے پاکستان کے کم از کم چھ طیارے مار گرائے تھے۔
فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گرد چاہے پاکستان میں اپنے ٹھکانے جتنا بھی دور یا کہیں بھی بنالیں، ہندوستانی فضائیہ کے پاس انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ان سے پوچھا گیا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے تباہ ہونے کے بعد اب دہشت گرد خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا رہے ہیں۔
فضائیہ کے سربراہ نے کہا’’اس کی توقع تھی اور ہمیں بھی ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ وہ اپنے ٹھکانے بدل رہے ہیں۔ اب وہ شاید بڑے ڈھانچوں کی بجائے چھوٹے ڈھانچے بنائیں گے۔ لیکن اگر خفیہ اطلاعات دستیاب ہوں، تو ہمارے پاس بالکل درست نشانہ لگا کر ان کے کسی بھی ٹھکانے کے اندر تک جانے کی صلاحیت ہے۔ ہم انہیں اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کر سکتے ہیں‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ اگر دہشت گرد اپنی حرکتیں چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو فضائیہ کے اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ’’ہمارا آپشن یہی رہے گا کہ ہم ان کے ٹھکانوں کو تباہ کریں‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد چلائے گئے آپریشن سندور میں فضائیہ نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا۔ اس دوران ۱۰۰ سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
ایئر چیف مارشل سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران فضائیہ کی جو بے مثال، درست اور نپی تلی صلاحیت دکھائی گئی، اس کی گونج پوری دنیا میں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فورسز نے پاکستان میں صرف مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا اور آبادی والے علاقوں پر حملے نہیں کیے گئے۔
فضائیہ کے سربراہ ایئرنے کہا کہ آپریشن سندور میں فضائیہ نے اپنی اچوک، ناقابلِ تسخیر اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت کو ثابت کیا، جبکہ ہندوستانی لڑاکا طیارے گرانے کے پاکستان کے دعوے محض افسانوی کہانیوں جیسے ہیں۔
سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران فضائیہ نے اپنی بے مثال صلاحیت اور برتری دکھاتے ہوئے دشمن کے سامنے اپنی طاقت منوائی۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۱ کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب فضائیہ نے اپنی مارک صلاحیت کے ذریعے دشمن کے سامنے اپنا لوہا منوایا۔انہوں نے کہا کہ اس سے فضائیہ کی برتری اور اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہ کتنی دور تک اور کتنی جلدی درست حملہ کر سکتی ہے۔
پاکستان کے ہندوستان کے کئی لڑاکا طیارے گرانے کے دعوؤں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان جو دعوے کر رہا ہے وہ اس کی افسانوی کہانیاں ہیں، جبکہ ہمارے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









