لیہ/۲۷ستمبر
لداخ میں ریاستی درجہ کے لیے سرگرم کارکن سونم وانگچک کے خلاف جاری تحقیقات میں پاکستان کا پہلو سامنے آیا ہے۔بدھ کو لداخ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران ہنگامہ آرائی اور چار مظاہرین کی ہلاکت کے بعد وانگچک کو گرفتار کیا گیا تھا۔
لداخ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی) ایس ڈی سنگھ جموال نے آج ایک پریس کانفرنس میں وانگچک کے پاکستان دوروں پر سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ وہ مرکز کے ساتھ جاری ریاستی درجہ بات چیت کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک پاکستانی انٹیلیجنس آپریٹو (پی آئی او) کو بھی حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے جس کے وانگچک سے روابط تھے اور جو پاکستان کو رپورٹ کر رہا تھا۔
ڈی جی پی نے کہا ’’ہم نے ایک پاکستانی پی آئی او کو گرفتار کیا جو ان کے رابطے میں تھا اور معلومات باہر بھیج رہا تھا۔ ہمارے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ وانگچک نے پاکستان میں ڈان کے ایک پروگرام میں بھی شرکت کی تھی۔ وہ بنگلہ دیش بھی گئے۔ ان سب پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘‘
سونم وانگچک پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو بغیر ضمانت کے طویل عرصے تک حراست کی اجازت دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق انہیں جودھپور، راجستھان کی ایک سہولت میں منتقل کیا گیا ہے۔ ادھر لیہ میں کرفیو نافذ ہے اور افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئی ہیں، تاہم انتظامیہ نے کرفیو میں کچھ نرمی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
ڈی جی پی جموال نے کہا ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کرفیو کو مرحلہ وار ڈھیلا کیا جائے۔ پرانے شہر میں دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک اور نئے علاقوں میں ساڑھے تین بجے سے ساڑھے پانچ بجے تک نرمی دی جائے گی۔‘‘
جموال نے مزید الزام لگایا کہ وانگچک نے ۲۴ ستمبر کو لیہ میں تشدد بھڑکایا۔ ’’سونم وانگچک کا ماضی بھی لوگوں کو بھڑکانے کا رہا ہے۔ انہوں نے عرب بہار، نیپال اور بنگلہ دیش کی مثالیں دی ہیں۔‘‘
ڈی جی پی نے مزید کہا کہ کچھ ماحولیاتی کارکنان کی ساکھ پر بھی سوال اٹھتا ہے جنہوں نے پلیٹ فارم ہائی جیک کرنے کی کوشش کی اور اس میں نمایاں نام سونم وانگچک کا ہے، جو پہلے بھی ایسی سرگرمیوں اور بیانات سے عمل کو سبوتاڑ کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، ان کے غیر ملکی فنڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی بھی جانچ ہو رہی ہے۔ ڈی جی پی نے کہا ’’ایف سی آر اے کی خلاف ورزی بالکل واضح معاملہ ہے، اس کی تحقیقات ایک اور ایجنسی کرے گی۔‘‘










