جموں/۲۴ستمبر
ضلع ڈوڈہ سے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے منتخب رکنِ اسمبلی معراج ملک نے اپنی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
ایم ایل اے ڈوڈہ کو۸ ستمبر کو ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کی جانب سے جاری ڈیٹینشن آرڈر کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ کے جسٹس ونود چیٹرجی کول نے درخواست رہائی برائے حبس بیجا کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت سے ۱۴؍ اکتوبر تک جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ، ایس ایس پی ڈوڈہ اور سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل کٹھوعہ کو نوٹس جاری کیے۔ یہ نوٹس عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مونیکا کوہلی نے قبول کیے۔
عآپ ترجمان اپو سنگھ سلاتھیا کے مطابق، ’’معراج ملک کی قانونی ٹیم نے عدالت سے کہا کہ چونکہ وہ (معراج) ایک منتخب نمائندہ ہے اور عوامی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے، اس لیے فوری سماعت ہونی چاہیے۔‘‘ ملک نے اپنی پٹیشن میں ڈیٹینشن آرڈر کو ذاتی تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے پانچ کروڑ روپے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایم ایل اے ڈوڈہ، معراج ملک، کی گرفتاری پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں نے پہلے ہی اس عمل کی تنقید کرتے ہوئے ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اور اب ہائی کورٹ میں اس اہم معاملے پر سماعت شروع ہو چکی ہے۔










