ایل جی گپتا نے سازش کا الزام عائد کیا‘ قصورواروں کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ
لداخی کھیلی جانے والی تنگ سیاست اور کارکن سونم وانگچک کے ذاتی عزائم کی بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں:مرکز
سرینگر/۲۴ ستمبر
سٹیٹ ہڈ کے مطالبے کے دوران تشدد اور جانی نقصان کیلئے ذاتی مفادات کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر‘ کویندر گپتا نے بدھ کے روز کہا کہ مزید خونریزی کو روکنے کیلئے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیہہ ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
گپتا نے کہا کہ تشدد کے ذمہ داروں کی شناخت کی جائیگی اور ملک کے قانون کے مطابق ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بدھ کو سٹیٹ ہڈ کے مطالبے کے حق میں ہوئے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس میںہوئیں جھڑپوں میں ۴ لوگ مارے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ۔
گپتا نے لداخ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’یہ کرفیو احتیاطی اقدام کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ یہاں لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ہیں اور میں ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ مزید ہلاکتوں کو روکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے ‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ کسی بھی شکل میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو امن کو خراب کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تمام عناصر کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
گپتا نے کہا کہ لداخ میں پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش کے تحت تشدد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے لداخ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و ہم آہنگی برقرار رکھیں اور سماجی تانے بانے اور امن عامہ کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر سے گمراہ نہ ہوں۔
لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) کی سرپرستی میں بند کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان دن بھر ہونے والی شدید جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور ۲۲ پولیس اہلکاروں سمیت ۴۵ سے زیادہ زخمی ہو گئے ، جو گزشتہ پانچ سالوں سے ریاست کا درجہ حاصل کرنے اور چھٹے شیڈول کی توسیع کے لیے احتجاج کی قیادت کر رہا ہے۔
مظاہرین نے بی جے پی کے ایک دفتر ، پولیس کی ایک گاڑی اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
ادھرآج مرکزی سرکارکے ذرائع نے بتایا کہ لداخ کی صورتحال اپنے آپ قابو سے باہر نہیں ہوئی ؛ اسے جان بوجھ کر تیار کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ لداخ اور اس کی نوجوان آبادی بعض افراد کی طرف سے کھیلی جانے والی تنگ سیاست اور کارکن سونم وانگچک کے ذاتی عزائم کی بھی بہت بڑی قیمت ادا کر رہی ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ لداخ کے نوجوانوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ انہیں گمراہ کیا گیا اور سیاسی اور ذاتی فائدے کے لیے ایک مذموم سازش میں پکڑا گیا ، انہوں نے مزید کہا کہ مرکز لداخ کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اس دوران ماحولیاتی کارکن اور سماجی رہنما سونم وانگچک نے بدھ کو لہیہ میں پیش آنے والے پرتشدد مظاہروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’آج کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ پرتشدد جھڑپوں میں تین سے پانچ عام شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ میں لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہوں‘‘۔
وانگچک نے کہا کہ عوامی غصہ اپنی جگہ بجا ہے ، لیکن تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نوجوانوں کو پرامن جدوجہد کا راستہ اپنانا چاہیے تاکہ لداخ کے عوامی مطالبات صحیح معنوں میں حکومت تک پہنچ سکیں۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کو لداخ کے صدر مقام لہیہ میں ریاستی درجے اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کے مطالبے پر ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے ۔ ابتدا میں یہ احتجاج پرامن انداز میں جاری رہا، لیکن دوپہر کے بعد حالات اس وقت بگڑ گئے جب مشتعل مظاہرین نے بی جے پی کے ضلعی دفتر اور پولیس گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے اہلکاروں پر سنگباری بھی کی، جس کے بعد فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔
اس تصادم میں کم از کم چار شہریوں کے ہلاک ہونے اور پچاس سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ شہر میں کشیدگی کے باعث تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوگئیں اور انتظامیہ نے دفعہ۱۶۳بی این ایس کے تحت دفعہ ۱۴۴کی طرز پر عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔
وانگچک، جو گزشتہ ۱۵دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ تحریک امن اور شرافت کے ساتھ شروع ہوئی تھی’’میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں۔ اگر ہم نے طاقت کا سہارا لیا تو میری پانچ سال کی محنت رائیگاں جائے گی۔ ہمارا احتجاج ہمیشہ پرامن رہا ہے اور اسی طرح آگے بڑھنا چاہیے ۔ تشدد نہ ہمارے حق میں ہے اور نہ ہی تحریک کے مستقبل کے لیے سودمند‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز دو بھوک ہڑتالیوں کی حالت بگڑنے کے بعد عوامی ناراضگی بڑھی اور آج کے احتجاج میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ۔ لیکن اس غصے کو مثبت رخ دینے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کو سننے پر مجبور کیا جا سکے ۔
لہیہ ایپکس باڈی کے چیئرمین تھوپستن تسوانگ نے بھی اپنے ردعمل میں کہا’’ہم لداخ کے چار بڑے مسائل پر طویل عرصے سے تحریک چلا رہے ہیں۔ آج جو نوجوان اپنی جان سے گئے ہیں، وہ ہمارے مقصد کے لیے شہید ہوئے ہیں۔ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور یہ تحریک مزید مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گی‘‘۔
لداخ میں ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے کی تحریک۲۰۱۹میں آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی اور ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد شروع ہوئی۔ لداخ کو ایک الگ یونین ٹریٹری کے طور پر براہِ راست مرکز کے زیر انتظام دیا گیا۔ ابتدا میں اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا گیا، لیکن جلد ہی عوام میں ناراضگی بڑھنے لگی کیونکہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت نظام میں عوامی نمائندگی کم ہوگئی۔
گزشتہ چار برس میں یہ ناراضگی ایک بڑی عوامی تحریک میں بدل گئی ہے ۔ لہیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے مل کر ریاستی درجے اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر عوام کو متحرک کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات لداخ کے قبائلی تشخص، زمین اور وسائل کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
وانگچک نے اس تحریک کو نئی توانائی دی جب انہوں نے ۱۰ستمبر سے بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کے ساتھ کئی نوجوان بھی شریک ہوئے ۔ گزشتہ روز دو بھوک ہڑتالیوں کی حالت بگڑ گئی جس سے عوامی غصہ مزید بڑھا اور بدھ کو بڑے پیمانے پر احتجاج میں شدت آ گئی۔
مرکز نے گزشتہ سال ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ لداخ کے مطالبات پر غور کیا جا سکے ، لیکن اب تک ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے ۔ اس سال مارچ میں لداخی رہنماؤں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی، تاہم اس کے بعد بھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اب ۶؍اکتوبر کو مرکز اور لداخی نمائندوں کے درمیان ایک اور میٹنگ طے ہے جس میں ایل اے بی اور کے ڈی اے کے قائدین شرکت کریں گے ۔
لہیہ میں پرتشدد احتجاج کے بعد شہر میں کرفیو جیسا ماحول ہے ۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کو حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔ انتظامیہ نے اجتماعات اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ندائے مشرق ویب ڈیسک










