واشنگٹن، 23 ستمبر (یو این آئی) وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی جانب سے دو دشمن ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی خاطر کی گئی مذاکرات کی درخواست کو مسترد کردیا ہے ۔
یہ ردعمل ، وینزویلا کے دو حزب اختلاف رہنماؤں کے جنوبی امریکہ کے قریب امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کی حمایت کرنے اور اسے جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے ۔
ٹرمپ نے منشیات کے خلاف آپریشن کے دائرہ کار میں آٹھ جنگی جہاز اور ایک آبدوز جنوبی کیریبین بھیجی ہے ۔ اس کاروائی کو وینزویلا ممکنہ حملے کی تیاری سمجھتا ہے ۔
حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجیں منشیات کے شبے میں وینزویلا کی تین کشتیوں کو تباہ کرچُکی ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اتوار کے روز وینزویلا حکومت نے مادورو کا ٹرمپ کو ارسال کردہ ایک خط جاری کیا تھا۔ اس خط میں مادورو نے ، انہیں منشیات فروش جتھوں کی قیادت کا قصوروار ٹھہرانے سے متعلق، امریکی الزامات کو "بالکل جھوٹ” قرار دیا اور ٹرمپ سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے ۔
پیر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے مادورو کے خط کو "جھوٹ کا پلندہ” قرار دیا اور کہا تھا کہ وینزویلا کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ امریکی حکومت مادورو حکومت کو غیر قانونی” سمجھتی ہے ۔
کریبین میں حالیہ امریکی تعیناتی گذشتہ کئی سالوں میں بڑی ترین تعیناتی ہے ۔ مادورو نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے پہلے دورِ صدارت کی طرح اس دفعہ بھی ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
پیر کی رات اپنے ہفتہ وار ٹی وی پروگرام میں مادورو نے کہا تھا کہ "یہ پہلا خط تھا، میں یقینی طور پر مزید بھیجوں گا۔” انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان کا مقصد "وینزویلا کی صداقت کا دفاع کرنا” ہے ۔










